مجھے اپنے گھر میں کشیدگی کی پہلی یاد وہ ہے جب ایک دن اپا نشہ کی حالت میں گھر آئے تھے اور اماں پر چیخنے چلانے لگے تھے۔ انہوں نے اماں کی پٹائی کی اور ان کے والدین اور بہن بھائیوں (جو اس وقت ہمارے ساتھ تھے) نے سخت سست کہا۔ مجبوراً انہوں نے اپا کی توہین آمیز باتیں سن لیں اور نظر انداز کرنے کی کوشش کیں۔ اب ایسی کشیدگی روزانہ کا معمول بن چکی تھی۔
جب میں دوسری کلاس میں تھا، تو اس وقت کا ایک واقعہ مجھے واضح طور پر یاد ہے۔ ہمیشہ کی طرح، اپا نشہ اور غصہ کی حالت میں گھر آئے تھے۔ انہوں اماں کو مارا، پھر ہم بھائی بہنوں کی پٹائی کی، اور ہمارے تمام کپڑے اور سامان سڑک پر پھینک دیے۔ پھر ہمیں اپنے گھر سے نکل جانے کو کہا۔ اس رات ہم سڑک پر اپنی ماں سے ایسے لپٹے تھے جیسے جانوروں کے چھوٹے بچے سردیوں میں گرمی کی تلاش میں اپنی ماؤں سے لپٹتے ہیں۔
چونکہ جی ٹی آر مڈل اسکول (قبائلی سرکاری ادارہ، جہاں ہم گئے تھے) میں قیام اور طعام کی سہولیات موجود تھیں، اس لیے میرے بڑے بھائی بہن نے وہیں رکنے کا فیصلہ کیا۔ ایسا لگتا تھا کہ ان دنوں ہمارے پاس جس چیز کی افراط تھی وہ ہماری آہیں تھیں اور ہمارے آنسو تھے۔ ہم اپنے گھر میں ہی رہے، جب کہ اپا وہاں سے چلے گئے۔
لیکن ہمیشہ خوف زدہ رہتے تھے کہ معلوم نہیں کہ کب اگلی لڑائی شروع ہو جائے۔ ایک رات اپا پر کا شراب کا نشہ اس قدر چڑھا کہ وہ امّاں کے بھائی سے بھڑ گئے۔ انہوں نے چاقو کے وار سے میرے ماموں کے ہاتھ کاٹنے کی کوشش کی۔ خوش قسمتی سے چاقو کند تھا، اس لیے زیادہ نقصان نہیں پہنچا۔ فیملی کے دیگر افراد نے مداخلت کرتے ہوئے اپا کو قابو میں کیا۔ اس افراتفری میں میری چھوٹی بہن، جسے اماں نے پکڑ رکھا تھا، گر گئی اور اس کے سر پر چوٹ آئی۔ میں کچھ کرسکنے سے قاصر وہاں جو کچھ ہو رہا تھا اسے بے بسی سے کھڑا دیکھ رہا تھا۔
اگلی صبح سامنے صحن میں میرے ماموں اور اپا کے خون کے سرخ سیاہ دھبے پھیلے ہوئے ملے تھے۔ آدھی رات کو میرے والد لڑکھڑاتے ہوئے گھر آئے اور مجھے اور پھر میری بہن کو میرے دادا کے گھر سے گھسیٹتے ہوئے باہر کھیتوں کے درمیان اپنے چھوٹے سے کمرے میں لے گئے۔ کچھ مہینوں بعد میرے والدین ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔