’’اچھا ہوگا کہ ہم لوگ مانسون سے پہلے گرام سبھا کی عمارت کی مرمت کرا لیں۔‘‘ لوپونگپاٹ کے لوگوں سے بات چیت کے دوران سریتا اسُر نے یہ بات کہی۔
گاؤں کی میٹنگ بس شروع ہی ہوئی ہے۔ تھوڑی دیر پہلے ڈھول والے نے مرکزی سڑک پر ڈھول بجا کر اس کی منادی کی تھی۔ عورتیں اور مرد اپنے اپنے گھروں سے باہر نکلے اور گرام سبھا سچیوالیہ (سکریٹریٹ) میں آ کر جمع ہو گئے۔ یہ دو کمرے کی وہ عمارت ہے، جس کی مرمت کے لیے سریتا پیسے کا انتظام کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
جھارکھنڈ کے گُملا ضلع کے اس گاؤں کے لوگ فوراً اس پر متفق ہو جاتے ہیں اور سریتا کی تجویز پاس ہو جاتی ہے۔
سابق قومی ہاکی کھلاڑی سریتا نے بعد میں اس نامہ نگار کو بتایا، ’’اب ہم جانتے ہیں کہ ہمیں ہی اپنے مسائل حل کرنے ہیں اور ہماری گرام سبھا ہمارے گاؤں کی ترقی کو آگے بڑھا سکتی ہے۔ اس نے ہم سبھی کو، اور خاص کو عورتوں کو با اختیار بنایا ہے۔‘‘










