اشوک تانگڑے ایک دوپہر اپنے فون پر کچھ دیکھ رہے تھے کہ تبھی ایک وہاٹس ایپ پیغام ملا۔ یہ شادی کا ڈیجیٹل کارڈ تھا، جس میں نوجوان دولہا دولہن ایک دوسرے کو عجیب طریقے سے دیکھ رہے تھے۔ کارڈ میں شادی کا وقت، تاریخ اور مقام بھی درج تھا۔
مگر تانگڑے کو بھیجا گیا یہ کارڈ شادی کی تقریب کا دعوت نامہ نہیں تھا۔
اُس کارڈ کو تانگڑے کے ایک مخبر نے مغربی ہندوستان میں واقع اپنے ضلع سے بھیجا تھا۔ شادی کے کارڈ کے ساتھ انہوں نے دولہن کا برتھ سرٹیفکیٹ بھی بھیجا تھا۔ وہ ۱۷ سال کی تھی، یعنی قانون کی نظر میں نابالغ۔
کارڈ پڑھتے ہی ۵۸ سال کے تانگڑے کو لگا کہ شادی تو بس گھنٹہ بھر میں ہونے والی ہے۔ انہوں نے فوراً اپنے رفیق کار اور دوست تتوشیل کامبلے کو فون کیا اور دونوں فوراً کار سے روانہ ہو گئے۔
جون ۲۰۲۳ کے اس واقعہ کو یاد کرتے ہوئے تانگڑے بتاتے ہیں، ’’بیڈ شہر میں جہاں ہم رہتے ہیں، وہاں سے یہ جگہ تقریباً آدھے گھنٹہ کی دوری پر تھی۔ راستے میں ہم نے یہ تصویریں مقامی پولیس اسٹیشن اور گرام سیوک کو وہاٹس ایپ کر دیں، تاکہ وقت برباد نہ ہو۔‘‘
تانگڑے اور کامبلے حقوق اطفال کے کارکن ہیں، جو مہاراشٹر کے بیڈ ضلع میں ایسے معاملوں کو اجاگر کرتے رہتے ہیں۔
اس کام میں ان کی مدد کرنے والے لوگوں کی ایک لمبی چوڑی فوج ہے۔ ان میں دولہن سے محبت کرنے والے گاؤں کے لڑکے سے لے کر اسکول میں پڑھانے والے ٹیچر یا پھر سماجی کارکن تک سبھی شامل ہیں؛ یعنی کوئی بھی آدمی جو یہ سمجھتا ہے کہ کم عمری کی شادی ایک جرم ہے ان کو خبر دے سکتا ہے۔ اور ان برسوں کے دوران دونوں نے ضلع بھر میں ۲۰۰۰ سے زیادہ مخبروں کا ایک نیٹ ورک کھڑا کر لیا ہے، جو انہیں کم عمری کی شادی پر نظر رکھنے میں مدد کرتے ہیں۔












