روبیل شیخ اور انل خان ڈرائیونگ کر رہے ہیں…لیکن وہ زمین کے آس پاس بھی نہیں ہیں۔ وہ زمین سے تقریباً ۸۰ ڈگری کی عمودی خط پر تقریباً ۲۰ فٹ اوپر ہیں۔ اگرتلہ کے میلے میں ایک بڑا ہجوم ان کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ روبیل اور انل کار کی کھڑکیوں سے اپنے ہاتھ لہراتے ہیں۔
وہ موت کے کنویں میں اپنا کرتب دکھا رہے ہیں۔ وہ دیواروں (اسٹیج کے کناروں) پر ایک کار اور موٹر سائیکلوں کو عمودی طور پر چلاتے ہوئے کئی اسٹنٹ پیش کر رہے ہیں۔
کھیل کے مظاہرے کو ۱۰ منٹ کے شوز میں منقسیم کر کے گھنٹوں تک جاری رکھا جاتا ہے۔ کنویں کی طرح کا یہ ڈھانچہ لکڑی کے تختوں سے بنا ہوا ہوتا ہے اور انہیں میلے میں کھڑا کرنے میں کئی دن لگتے ہیں۔ گاڑی چلانے والے زیادہ تر ڈرائیور بھی اسٹیج کو ترتیب دینے میں شامل ہوتے ہیں، کیونکہ اسٹیج کی بناوٹ شو اور خود سواروں کی حفاظت کے لیے اہم ہوتی ہے۔
’موت کا کنواں‘ کے نام سے مشہور یہ کھیل، اکتوبر ۲۰۲۳ میں تریپورہ کے اگرتلہ میں درگا پوجا کے میلے کی ایک اہم کشش ہے۔ میلے کے دیگر کھیلوں میں ہنڈولا، میری گو راؤنڈ، ٹوائے ٹرینیں شامل ہیں۔























