نارائن کُنڈلِک ہزارے لفظ ’بجٹ‘ کو سمجھتے ہیں، کیوں کہ ان کا خود کا بجٹ بہت زیادہ نہیں ہے۔
’’آپلا تیوڑھا بجیٹچ ناہی [میرا بجٹ اُتنا نہیں ہے]!‘‘ صرف چند الفاظ میں نارائن چاچا ۱۲ لاکھ روپے کی ٹیکس فری آمدنی کے ڈھول کی پول کھول دیتے ہیں۔
اس ۶۵ سالہ کسان اور پھل فروش کے لیے مرکزی بجٹ سے متعلق سوالوں کی شاید ہی کوئی اہمیت ہو۔ وہ پورے یقین کے ساتھ جواب دیتے ہیں، ’’میں نے اس کے بارے میں کبھی کچھ سنا ہی نہیں ہے۔ ان گزرے سالوں میں کچھ بھی نہیں سنا۔‘‘
نارائن چاچا کے پاس اسے جاننے کا کوئی ذریعہ بھی نہیں تھا۔ ’’میرے پاس موبائل فون نہیں ہے۔ اور میرے گھر پر ٹی وی بھی نہیں ہے۔‘‘ ان کے ایک دوست نے کچھ دن پہلے ہی انہیں تحفہ میں ایک ریڈیو دیا ہے۔ لیکن عوامی نشریاتی سروس نے ابھی اس بارے میں انہیں کچھ بھی نہیں بتایا ہے۔ ’’میرے جیسے کسی ناخواندہ آدمی کے پاس کوئی رابطہ کہاں ہوتا ہے؟‘‘ وہ پوچھتے ہیں۔ ’کسان کریڈٹ کارڈ‘ یا ’قرض کی بڑھی حد‘ جیسے الفاظ نارائن چاچا کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے ہیں، کیوں کہ وہ ان سے لاعلم ہیں۔



