اہروانی میں داخل ہوتے ہی رام اوتار کشواہا کیچڑ بھری سڑک پر توازن برقرار رکھنے کے لیے اپنی موٹر سائیکل کی رفتار دھیمی کر لیتے ہیں۔ وہ اوبڑ کھابڑ بستی کے درمیان میں پہنچتے ہیں اور اپنی ۱۵۰ سی سی کی بائک کا انجن بند کر دیتے ہیں۔
تقریباً پانچ منٹ کے اندر ہی بچے، اسکولی طلباء اور نوجوان ان کے ارد گرد جمع ہو جاتے ہیں۔ سہریا آدیواسی بچوں کا یہ جھنڈ تحمل کے ساتھ انتظار کرتا ہے، ہاتھوں میں سکے اور ۱۰ روپے کے نوٹ پکڑے آپس میں باتیں کرتا ہے۔ وہ سب چاؤمن، یعنی تلی ہوئی سبزیوں اور نوڈلز سے بنا کھانا خریدنے کے منتظر ہیں۔
اس بات سے واقف کہ یہ تمیز دار بھوکے گاہک جلد ہی بے چین ہو جائیں گے، موٹر بائک سے چاؤمن بیچنے والے نے جلد ہی اپنا ڈبہ کھول دیا۔ اس میں زیادہ کچھ نہیں ہے – رام اوتار پلاسٹک کی دو بوتلیں نکالتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، ’’ایک میں لال سوس [مرچ] ہے اور دوسری میں کالا [سویا سوس]۔‘‘ دوسرے سامان میں پتہ گوبھی، چھلی ہوئی پیاز، ہری شملہ مرچ اور ابلے ہوئے نوڈلز ہیں۔ ’’میں اپنا سامان وجے پور [شہر] سے خریدتا ہوں۔‘‘
شام کے تقریباً ۶ بجے ہیں اور یہ چوتھا گاؤں ہے، جہاں رام اوتار چکر لگا رہے ہیں۔ وہ دوسری بستیوں اور گاؤوں کے نام بھی بتاتے ہیں، جہاں وہ باقاعدگی سے جاتے ہیں – لاڈر، پنڈری، کھجوری کلاں، سلپارہ، پارونڈ۔ یہ سبھی سوتیپورہ میں ان کے گھر کے ۳۰ کلومیٹر کے دائرے میں آتے ہیں، جو وجے پور تحصیل کے گوپال پورہ گاؤں سے جڑا ایک چھوٹا گاؤں ہے۔ ان بستیوں اور چھوٹے گاؤوں میں تیار اسنیکس (کھانے پینے کے سامان) کے نام پر پیکٹ بند چپس اور بسکٹ ملتے ہیں۔
وہ ہفتے میں کم از کم دو تین بار تقریباً ۵۰۰ لوگوں کی آدیواسی اکثریت والی بستی اہروانی آتے ہیں۔ اہروانی نئی آبادی ہے۔ یہاں وہ لوگ رہتے ہیں جنہیں ۱۹۹۹ میں کونو نیشنل پارک سے بے دخل کیا گیا تھا، تاکہ اسے شیروں کا دوسرا ٹھکانہ بنایا جا سکے۔ (پڑھیں: کونو: آدیواسیوں کو اجاڑ کر چیتوں کو بسانے کی تیاری)۔ شیر تو آیا نہیں، مگر افریقہ سے چیتوں کو ضرور ستمبر ۲۰۲۲ میں پارک میں لایا گیا ہے۔






