ضلع کلکٹر کے دفتر کے اعداد و شمار کے مطابق اس سال کے پہلے پانچ مہینوں میں عثمان آباد میں ۵۵ دیگر کسانوں نے بھی سندیب جیسا انتہائی قدم اٹھایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر تین دن میں ایک خودکشی، اور ۲۰۱۶ میں اچھے مانسون کی وجہ سے خشک سالی کے خاتمے کے بعد بھی یہ شرح برقرار رہی۔
مراٹھواڑہ میں معقول مانسون کے بعد بھی کسانوں کی خودکشیوں اور زرعی تناؤ سے نجات میں ناکامی کی ایک وجہ کسانوں کے پاس بوائی کے موسم میں قرض حاصل کرنے کے اختیارات کا فقدان ہے۔
وہ کس سے رجوع کریں؟ بینکوں کے قرضوں کا نظام انتہائی ناقص ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کے اعداد و شمار بینکنگ میں شدید علاقائی عدم توازن کو ظاہر کرتے ہیں: مراٹھواڑہ کے آٹھ اضلاع کی کل آبادی ایک کروڑ ۸۰ لاکھ ہے، جو پونے ضلع کی ۹۰ لاکھ کی آبادی سے دوگنی ہے۔ لیکن مارچ ۲۰۱۶ تک تجارتی بینکوں (قومی اور نجی) کے ذریعے مراٹھواڑہ کو دی گئی پیشگی رقم (۴۵۷۹۵ کروڑ روپے) پونے ضلع کو دی گئی پیشگی رقم (۱۴۰۶۴۳ کروڑ روپے) سے ایک تہائی کم ہے۔ یہ صورتحال ایسے علاقوں میں قرض دینے میں بینکوں کی ہچکچاہٹ کی بھی عکاسی کرتی ہے، جنہیں وہ معاشی طور پر پرکشش نہیں سمجھتے ہیں، اور ان خطوں میں زراعت سے منسلک صنعتیں نہیں آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔
آل انڈیا ایمپلائز بینک ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سکریٹری دیوی داس تُلجاپورکر کا کہنا ہے کہ مہاراشٹر میں ۹۰ فیصد بینکنگ تین علاقوں - تھانے، ممبئی اور پونے میں ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ترقی یافتہ خطے کے وسائل کو پسماندہ خطے میں منتقل کیا جانا چاہیے تاکہ فرق کو پر کیا جا سکے۔ اس کی بجائے ہم اس خلیج کو برقرار رکھ رہے ہیں۔‘‘
اس کے علاوہ بینکوں نے کسانوں کے قرضوں کو ان کے فصلی قرضوں اور مدتی قرضوں (ٹرم لون) کو ملا کر دوبارہ ترتیب دیا ہے۔ فصل کے قرض پر (زرعی سرگرمیوں جیسے بیج اور کھاد کی خریداری کی مد میں) سود کی شرح ۷ فیصد ہے؛ اس میں سے ۴ فیصد ریاست ادا کرتی ہے۔ مدتی قرض (ٹریکٹر اور مشینری میں سرمایہ کاری کی مد) میں دوگنا سود کی شرح وصول کی جا سکتی ہے۔ دوبارہ ترتیب کے ذریعے بینک دونوں قرضوں کو ضم کر دیتے ہیں اور انہیں ایک نئے مدتی قرض میں تبدیل کردیتے ہیں۔ یہ کسانوں کے واجبات کو بڑھاتا ہے اور انہیں نئے قرضوں کے لیے نااہل قرار دے دیتا ہے۔
اورنگ آباد میں بینک آف مہاراشٹر کے ایک ریٹائرڈ افسر کا کہنا ہے کہ وہ اکثر کسانوں کو قرضوں کی دوبارہ تریتب سے بعض رہنے کا مشورہ دیتے تھے۔ ’’لیکن تمام بینک اہلکار ایسا نہیں کرتے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’دراصل کاشتکاروں سے کہا جاتا ہے کہ انہیں اپنے گھروں پر پڑنے والے چھاپوں سے بچنے کے لیے ایسا کرنا چاہیے۔‘‘
اس سے کسانوں کے پاس ضلعی کوآپریٹو بینکوں سے رجوع کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں رہ جاتا ہے۔ ان بینکوں میں عام طور پر بہت سے لوگوں کے کھاتے ہوتے ہیں۔ لیکن مراٹھواڑہ کے چھ اضلاع میں چھ بینک تقریباً ناکارہ ہو چکے ہیں، جس کی بڑی وجہ بااثر ڈیفالٹرز سے نمٹنے میں ناکامی ہے؛ لاتور اور اورنگ آباد کے ضلعی کوآپریٹو بینک بھی اچھی حالت میں نہیں ہیں۔
ایسے حالات سندیپ جیسے کسانوں کو نجی ساہوکاروں سے رجوع کرنے پر مجبور کرتے ہیں، جہاں انہیں فوری طور پر نقد رقم مل جاتی ہے، لیکن ۳ سے ۵ فیصد ماہانہ یا ۴۰ سے ۶۰ فیصد سالانہ سے بھی زیادہ شرح سود پر۔ اس طرح ایک قابل انتظام رقم سود کے اضافے کے ساتھ بالآخر اصل رقم سے کئی گنا زیادہ بڑھ سکتی ہے۔
بیڈ ضلع کے انجن وٹی گاؤں کے ۶۵ سالہ بھگوان یدھے اور ان کی بیوی ساکھر بائی بھی ایک نجی ساہوکار سے ملنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یدھے کہتے ہیں، ’’میرے پاس پہلے ہی ۳ لاکھ روپے حیدرآباد بینک کے اور ۵ء۱ لاکھ روپے کے نجی قرضے ہیں۔ ان میں سے کچھ رقم میرے دو بیٹوں کی تعلیم پر بھی خرچ ہوئی تھی۔ انہوں نے پونے میں تعلیم حاصل کی اور اب نوکریوں کی تلاش میں ہیں۔‘‘