بیت الخلا تک پہنچنے میں وِٹّو پانڈے کو ۶۰ قدم چلنے پڑتے ہیں۔ اوبڑ کھابڑ زمین پر وہ اتنی سی مسافت اکیلے طے نہیں کر سکتیں۔ کبھی کبھی، وہ کسی کا گھنٹوں انتظار کرتی ہیں تاکہ وہ ان کا ہاتھ پکڑ کر وہاں لے جا سکے۔ ’’میں گرتی رہتی ہوں۔ میں گرتی ہوں اور اٹھ جاتی ہوں۔ ایک بار، مجھے ایک بیل نے ٹکر مار دی تھی اور ہفتوں تک میرے جسم میں ورم رہا،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔
وِٹّو، جن کی بینائی پیدائشی طور پر کمزور ہے، انہیں عام طور سے ان کے بھائی کی بیوی، گیتا بیت الخلا لے جاتی ہیں۔ ’’کبھی کبھی میں دوسرے کام کر رہی ہوتی ہوں، جب بیچ میں ہی وہ پکارنے لگتی ہیں۔ یہ ایک مسئلہ ہے،‘‘ گیتا کہتی ہیں، جو خود کھیتوں میں جاتی ہیں۔ ’’بیت الخلا میں بہتا پانی نہیں ہے، اس لیے یہ بہت گندا ہو جاتا ہے۔ یہ ایک بیکار بیت الخلا ہے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ان کے شوہر سناتک، وِٹو کے تین بھائیوں میں سب سے چھوٹے ہیں۔ وہ لکھنؤ ضلع کے گوسائیں گنج بلاک کے اپنے گاؤں بکھری میں اپنی بیگھہ (تقریباً ۰ء۶ ایکڑ) زمین پر کھیتی کرتے ہیں۔
بکھری میں کل ۲۰۳ بیت الخلا ہیں، جن میں سے زیادہ تر رہائشی کوارٹروں سے دور ہیں، ڈھے رہے ہیں اور استعمال کرنے لائق نہیں ہیں۔ آدھے ادھورے بیت الخلا تک بھی پہنچ نہ پانے کا مطلب ہے لمبے وقت تک اپنے اوپر کنٹرول کرنا، لمبی دوری طرے کرنا اور گاؤں والوں کی طرف سے لگاتار بے عزت ہوتا۔
ایک خاتونِ خانہ، تاراوتی ساہو کو ایسے بے شمار وقت یاد ہیں جب ان کا پیٹ خراب تھا، اور انہوں نے تیزی سے کھیتوں کی طرف جاتے وقت کسی کے گھر کے سامنے ہی رفع حاجت کر دیا۔ ’’یہ بہت شرمناک ہے۔ پڑوسی عجیب سا منھ بناکر ہمیں دیکھتے ہیں۔ جب میرا خراب ہوتا ہے اور میں خود پر قابو نہیں کر پاتی ہوں، تو جس جگہ میں نے کبھی رفع حاجت کر دیا اس گلی کو دن میں پانچ بار دھوتی ہوں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔۶۵ سال کی عمر میں، کھیتوں تک پہنچنے کا پانچ منٹ کا راستہ ان کے لیے ایک مشکل سفر ہے۔ ان کے ۷۲ سالہ شوہر، ماتا پرساد ساہو اتنے بیمار رہتے ہیں کہ اپنے تین بیگھہ کھیت میں کام نہیں کر سکتے، وہ بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا کرتے ہیں۔ ’’ہم کئی لوگوں کے سامنے ہاتھ جوڑ چکے ہیں، لیکن کسی نے بھی ہماری طرف دھیان نہیں دیا۔ میں بیت الخلا کے لیے پوچھ پوچھ کر تھک چکی ہوں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔






