نامدیو ترالے اپنے کھیت میں قدم رکھتے وقت اچانک رک جاتے ہیں۔ پھر ۴۸ سال کے یہ کسان جھک کر کھیت میں لگے سبز چنے کے پودوں کے ایک حصہ کو غور سے دیکھتے ہیں، ایسا لگ رہا ہے کہ کسی نے اسے روندا ہے اور کھایا ہے۔ یہ فروری ۲۰۲۲ کی ایک سرد لیکن خوشگوار صبح ہے؛ اوپر آسمان میں چمک رہا سورج زیادہ سخت نہیں ہے۔
’’ہا ایک پرکارچا دُش کالچ آہے [یہ نئی قسم کی خشک سالی ہے]،‘‘ وہ صفائی سے کہتے ہیں۔
یہ بیان ترالے کی مایوسی اور خوف کو ظاہر کرتا ہے۔ وہ پانچ ایکڑ زمین کے مالک ہیں، اور انہیں اپنے کھیتوں پر تور اور ہرے چنے کی کھڑی فصلوں کو کھونے کا ڈر ستا رہا ہے، جو تین مہینے کی کڑی محنت کے بعد اب کاٹے جانے کے لیے تیار ہیں۔ کاشتکاری کے اپنے ۲۵ سال سے زیادہ کے تجربے میں، انہوں نے مختلف قسم کی خشک سالی کا مشاہدہ کیا ہے – جیسے کہ موسمیاتی خشک سالی، جب بارش باکل بھی نہیں ہوتی یا حد سے زیادہ ہوتی ہے؛ ہائیڈرولوجیکل، جب زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے چلی جاتی ہے؛ یا زرعی خشک سالی، جب مٹی کے اندر موجود نمی کم ہو جانے کی وجہ سے فصلیں سوکھ جاتی ہیں۔
ترالے غصے سے کہتے ہیں کہ جیسے ہی یہ لگتا ہے کہ اس بار آپ کو اچھی فصل ملی ہے، تو چار ٹانگوں والی یہ آفت آ جاتی ہے یا کھیت کے اوپر اڑنے لگتی ہے اور ایک ایک کرکے پوری فصل کو چٹ کر جاتی ہے۔
ان خطروں کو گناتے ہوئے وہ کہتے ہیں، ’’دن میں بطخ، بندر، خرگوش؛ رات میں ہرن، نیل گائے، سامبر، سؤر، شیر۔‘‘
وہ شکست خوردہ لہجے میں کہتے ہیں، ’’آمہالے پیرتا ییتے صاحب، پن واچوتا ییت ناہی [ہم اپنی فصل کی بوائی کرنا تو جانتے ہیں، لیکن اس کی حفاظت کرنا نہیں جانتے۔‘‘ وہ کپاس یا سویابین جیسی نقدی فصلوں کے علاوہ عام طور سے سبز چنا، مکئی، جوار، اور ارہر کی دال اگاتے ہیں۔




















