لکھنؤ کینٹ اسمبلی حلقہ میں اپنی انتخابی ڈیوٹی انجام دینے کے لیے، مہا نگر پبلک انٹر کالج کی جانب تیزی سے قدم بڑھاتی ہوئی ریتا باجپئی کہتی ہیں، ’’ایک منٹ بھی لیٹ نہیں ہو سکتے، ورنہ ہماری کلاس لگ جائے گی۔‘‘ یہ انٹر کالج اُن کے گھر سے تقریباً ایک کلومیٹر دور ہے، جسے پولنگ اسٹیشن بنایا گیا تھا، حالانکہ وہ خود اپنا ووٹ کسی اور جگہ ڈالتی ہیں۔
وہ ایک بھاری بیگ لٹکائے، صبح کے ساڑھے پانچ بجے اس پولنگ اسٹیشن کی طرف جا رہی تھیں۔ اس بیگ میں ڈیجیٹل تھرمامیٹر، سینیٹائزر کی بوتلیں، استعمال کے بعد پھینک دیے جانے والے کئی جوڑی دستانے اور ماسک رکھے ہوئے تھے، جنہیں وہاں تقسیم کیا جانا تھا۔ چونکہ ۲۳ فروری کو، اسمبلی انتخابات کے چوتھے مرحلے میں، اتر پردیش کے نو ضلعوں کے ۵۸ دیگر حلقوں کے ساتھ ساتھ لکھنؤ میں بھی ووٹنگ ہونی تھی، اس لیے اُن کے لیے یہ ایک مصروف دن تھا۔
اتر پردیش کے انتخابات اب ختم ہو چکے ہیں – اور نتائج کا بھی اعلان ہو چکا ہے۔ لیکن وہاں کی خواتین کے ایک بہت ہی بڑے گروپ کے لیے جو نتائج ابھی آنے والے ہیں – وہ کافی پریشان کن، اور شاید مہلک بھی ہو سکتے ہیں۔ انہیں یہ خوف ستا رہا ہے کہ ہندوستان کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست کے اسمبلی انتخابات میں اپنی ڈیوٹی انجام دینے کے لیے انہیں جن حالات میں دھکیل دیا گیا تھا، اس کے نتائج کافی خطرناک ہو سکتے ہیں۔
یہ خواتین، ۱۶۳۴۰۷ آشا (منظور شدہ سماجی صحت سے وابستہ کارکنان) ہیں، جنہیں پولنگ بوتھ پر کام کرنے کے لیے مجبور کیا گیا اور وہ بھی بغیر کسی تحریری آرڈر کے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ انہیں پولنگ مراکز پر صاف صفائی برقرار رکھنے کی تو ذمہ داری سونپی گئی تھی، لیکن خود اُن کے لیے ایسا کوئی انتظام نہیں کیا گیا تھا۔ یعنی، انہیں یہ خطرناک کام ایک ایسی ریاست میں سونپا گیا، جہاں ابھی کچھ دنوں پہلے ہی، اپریل-مئی ۲۰۲۱ میں کووڈ۔۱۹ سے تقریباً ۲ ہزار اسکولی اساتذہ کی موت ہوئی تھی۔ اُس سال اپریل میں ہونے والے پنچایتی انتخابات میں، جب وبائی مرض اپنے عروج پر تھا، پنچایتی انتخابات کے دوران ریاست کے تمام سرکاری ٹیچروں کو اُن کی مرضی کے خلاف، پولنگ اہلکاروں کے طور پر کام کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔










