’’اپنے سر کو بچاکے چلنا،‘‘ محمد الیاس متنبہ کرتے ہیں، جب وہ اور شبیر حسین ہُندرمن بروق کے مکانوں کے اندر میری رہنمائی کر رہے ہیں۔ ہم اس ویران بستی میں، جو کہ لداخ کے کرگل بازار سے آٹھ کلومیٹر کی چڑھائی پر واقع ہے، تنگ گھماؤدار سڑک سے سفر کرتے ہوئے آئے ہیں جس کے تیز موڑ سے آپ کو چکر آ سکتا ہے۔
چار صدی قبل، اس کی زرخیزی، پانی کے بے شمار ذرائع اور بلند و بالا ہمالیہ کے درمیان اس کے جائے وقوع سے متاثر ہو کر، کرگل کے دو گاؤوں، پوئین اور کرکیچو (مردم شماری میں یہ پوین اور کارکت کے نام سے درج ہیں) سے تقریباً ۳۰ کنبے بروق (بلتی زبان میں اس لفظ کا مطلب ہے گرمیوں میں جانور چرانے کی جگہ) آ کر بس گئے۔ پتھر، لکڑی، مٹی اور بھوسے سے چھ سیڑھیوں یا سطحوں کی بستی بنائی گئی۔ تقریباً ایک دوسرے سے متصل پورے ڈھانچہ کا وزن پہاڑ سے ٹکا ہوا ہے، جو کہ ۲۷۰۰ میٹر کی اونچائی پر پتھروں کی چھت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
یہاں کا ہر ایک مکان پیچیدگی کے ساتھ دوسرے سے جڑا ہوا ہے، تاکہ سخت سردیوں کے مہینے میں دسمبر سے مارچ تک، جب ۵ سے ۷ فٹ تک برف پڑتی ہے، یہاں کے باشندوں کو باہر کم سے کم جانا پڑے۔ ’’پرانے زمانے میں گھروں کی چھت، دروازے اور کھڑکیاں چھوٹی اور نیچی رکھی جاتی تھیں تاکہ جہاں تک ممکن ہو سکے زیادہ سے زیادہ گرمی حاصل کی جائے۔ ہر منزل کی چھت پر بید کی لکڑی سے بنی ایک ہوادار دیوار والے کمرے ہوتے تھے، تاکہ اس سے ہوا پاس ہو سکے اور گرمی کے دنوں میں ٹھنڈی ہواؤں کا لطف لیا جا سکے،‘‘ الیاس بتاتے ہیں، جس وقت وہ ہمیں پتھر سے بنی ٹوٹی سیڑھیوں سے ایک چھت پر گھما رہے ہوتے ہیں۔











