تالا بیرا کے باشندوں نے بھی الزام لگایا ہے کہ فاریسٹ کلیئرنس کے لیے ان کے گاؤں کی گرام سبھا کی منظوری لینے میں جعل سازی کی گئی ہے۔ وہ اس بارے میں اپنی تحریری شکایتیں دکھاتے ہیں، جنہیں اکتوبر میں ان کے ذریعے ریاستی حکومت کے کئی افسروں کو بھیجا گیا تھا۔ ’’یہ سب جعل سازی سے کیا گیا ہے۔ ہم نے جنگل کی اس کٹائی کے لیے اپنی منظوری کبھی نہیں دی ہے،‘‘ وارڈ کی رکن سشما پاترا کہتی ہیں۔ راؤت نے کہا، ’’اس کے برعکس، ہماری تالا بیرا گرامیہ جنگل کمیٹی نے ۲۸ مئی ۲۰۱۲ کو کلکٹر کو لکھا کہ ایف آر اے کے تحت ہمارے جنگلاتی حقوق کو تسلیم کیا جائے، اور ہم نے منظوری کے لیے جعل سازی کرنے کے بارے میں افسروں کو سونپی گئی اپنی تحریری شکایت میں اس کی ایک کاپی جمع کی ہے۔‘‘
سینٹر فار پالیسی ریسرچ، نئی دہلی کے سینئر محقق، کانچی کوہلی، جنہوں نے تالا بیرا فاریسٹ کلیئرنس کی دستاویزوں کا مطالعہ کیا ہے، کہتے ہیں، ’’عام طور پر، جنگل کو منتقل کرنے کی کارروائیاں بے حد غیر شفاف رہی ہیں۔ متاثر لوگ جانچ رپورٹ اور منظوری کی سفارشوں کو شاید ہی دیکھ پاتے ہوں۔ تالا بیرا کا معاملہ اس مسئلہ کی علامت ہے۔ جب درخت کاٹنے کا عمل شروع ہوتا ہے صرف تبھی گاؤوں والوں کو جنگلاتی علاقوں پر کان کی توسیع کا پتہ چل پاتا ہے کہ کیا تاریخی حقوق برقرار ہیں۔‘‘
کوہلی آگے کہتے ہیں کہ دستاویزوں کو پڑھنے سے ’’اس مقام کے اچانک معائنہ اور الگ الگ تخمینہ کا صاف پتہ چلتا ہے۔ ۱ء۳ لاکھ درختوں کی کٹائی کے بارے میں درج کیا گیا کہ اس کا کوئی اثر نہیں پڑے گا اور اس پر کبھی سوال بھی نہیں اٹھا۔ گرام سبھا کی قراردادوں کی تصدیق وزارتِ ماحولیات کی جنگلاتی صلاح کار کمیٹی کے ذریعے نہیں کی گئی ہے۔ مجموعی طور پر، جنگل کو منتقل کرنے کی کارروائی میں سنگین قانونی کوتاہیاں دکھائی دیتی ہیں۔‘‘
افسروں کو گاؤوں والوں کی مخالفت کو سننا چاہیے، رنجن پانڈا کہتے ہیں۔ ’’کوئلہ ماحولیات کا سب سے بڑا مجرم ہے اور پوری دنیا ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کوئلہ سے چلنے والی بجلی تنصیبات سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی ہے۔‘‘
’’سرکار گاؤوں کے لوگوں کے درمیان حقوق جنگلات قانون کی تشہیر کرنے کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی ہے۔ ہم نے خود اپنی کوشش سے دعویٰ کیا۔ اور ہم اس جنگل کی حفاظت تب سے کر رہے ہیں جب کوئی قانون بھی نہیں تھا،‘‘ دلیپ ساہو کہتے ہیں۔ ’’آج سرکار کہہ رہی ہے کہ ہم گاؤوں والوں نے کمپنی کو اپنے جنگل دینے کے لیے منظوری دی ہے۔ میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں، اگر آپ کے پاس منظوری ہے، تو کمپنی کے ذریعے ہمارے درختوں کو کاٹنے کے لیے آپ کو ہمارے گاؤوں میں اتنی پولس فورس کیوں تعینات کرنی پڑ رہی ہے؟‘‘
ضمیمہ: ادانی انٹرپرائزز نے صفائی دی ہے کہ اس نے تالا بیرا کوئلہ کان علاقے میں درختوں کی کٹائی نہیں کی ہے۔ اس لیے درج بالا مضمون ۹ جنوری، ۲۰۲۰ کو اپڈیٹ کیا گیا ہے، تاکہ اس موقف کی ترجمانی کی جا سکے۔
(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)