’’میری فیملی نے میرے لیے ایک ایسا گھر تلاش کیا جس میں ایک علیحدہ کمرہ اور اس میں داخل ہونے کے لیے ایک الگ دروازہ تھا تاکہ میں خود کو دوسروں سے الگ رکھ سکوں،‘‘ ایس این گوپالا دیوی بتاتی ہیں۔ یہ مئی ۲۰۲۰ کی بات ہے، جب چند کنبوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے گھر کے بقیہ افراد کو بچانے کے لیے اس قسم کا قدم اٹھائیں گے – ساتھ ہی انتہائی خطرہ والے ان کے پیشہ سے متعلق اپنے اہل خانہ کے بوجھ کو کم کریں گے۔
پچاس سالہ گوپالا دیوی ایک نرس ہیں۔ وہ انتہائی تربیت یافتہ پیشہ ور ہیں جن کے پاس ۲۹ سال کا تجربہ ہے اور انہوں نے کورونا وائرس وبائی مرض کے دوران زیادہ تر وقت چنئی کے راجیو گاندھی گورنمنٹ جنرل ہاسپٹل کے کووڈ وارڈ میں کام کیا۔ اس کے علاوہ، وہ مختصر وقت کے لیے، اسی شہر میں پڑوس میں واقع پُلیئن تھوپ کے اسپیشل کووڈ کیئر سینٹر کی انچارج بھی رہیں۔
اب، جب کہ لاک ڈاؤن کو مرحلہ وار طریقے سے ہٹایا جا رہا ہے اور کئی سرگرمیاں آہستہ آہستہ معمول پر آنے لگی ہیں، تب بھی گوپالا دیوی کو کووڈ- ۱۹ وارڈ میں کام کرنے کے دوران اکثر کوارنٹائن ہونا (علیحدگی میں وقت گزارنا) پڑے گا۔ ’’میرے لیے، لاک ڈاؤن جاری ہے،‘‘ وہ ہنستے ہوئے کہتی ہیں۔ ’’نرسوں کے لیے، یہ کبھی ختم نہیں ہونے والا ہے۔‘‘
اور بھی کئی نرسوں نے اس رپورٹر سے یہی کہا کہ ’’ہمارے لیے لاک ڈاؤن – اور کام ہمیشہ رہتا ہے۔‘‘
’’ستمبر میں میری بیٹی کی شادی تھی اور میں نے اس سے صرف ایک دن پہلے چھٹی لی،‘‘ گوپالا دیوی بتاتی ہیں۔ ’’شادی کی مکمل ذمہ داری میرے شوہر اُدے کمار نے اپنے کندھوں پر لے لی تھی۔‘‘ کمار چنئی کے ہی ایک دیگر اسپتال، شنکر نیترالیہ کے اکاؤنٹس سیکشن میں کام کرتے ہیں۔ اور، وہ کہتی ہیں، ’’وہ میرے پیشہ کی مجبوریوں کو سمجھتے ہیں۔‘‘
اُسی اسپتال میں ۳۹ سالہ تھمیژ سیلوی بھی کام کرتی ہیں، جنہیں بغیر چھٹی لیے، کووڈ وارڈ میں کام کرنے کی وجہ سے ایک ایوارڈ مل چکا ہے۔ ’’کوارنٹائن کے دنوں کے علاوہ، میں نے کبھی چھٹی نہیں لی تھی۔ چھٹی کے دن بھی میں کام کرتی تھی کیوں کہ میں مسئلہ کی سنگینی کو سمجھتی ہوں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔
’’اپنے چھوٹے بیٹے، شائن اولیور کو کئی دنوں تک تنہا چھوڑ دینے کا درد کافی گہرا ہے۔ کئی دفعہ مجھے شرمندگی محسوس ہوتی ہے، لیکن میرا ماننا ہے کہ اس وبائی مرض کے دوران یہ ضروری ہے کہ ہم سب سے آگے رہیں۔ جب یہ پتا چلتا ہے کہ ہمارے مریض اپنے گھر والوں کے پاس واپس جا رہے ہیں، تو اس وقت جو خوشی حاصل ہوتی ہے وہ خود ہماری اپنی تکلیفوں کو دور کر دیتی ہے۔ لیکن میرے شوہر جو ہمارے ۱۴ سال کے بیٹے کا خیال رکھتے ہیں اور اس کی اچھی طرح دیکھ بھال کر رہے ہیں، اور میرے رول کو بھی سمجھتے ہیں، ان کے بغیر یہ ممکن نہیں ہو پاتا۔‘‘











