سورج غروب ہو چکا تھا۔ اندھیرا تیزی سے پھیلنے لگا۔ سر پر ایندھنی لکڑی اور ہاتھوں میں برتن، اینٹیں، بغیر پکا ہوا چاول، سوکھی مچھلی اور مصالحے لیے، ہزاروں آدیواسی – منتظمین کے اندازہ کے مطابق ۵۰ ہزار – شمال مشرقی ممبئی کے مُلُنڈ کی پرانی آکٹروئی پوسٹ کی طرف رواں دواں تھے۔ بیکار پڑا یہ احاطہ احتجاجیوں کے لیے ٹھہرنے کی جگہ بن گیا۔
’’ہم یہاں ٹھہریں گے۔ ہم اپنی ضرورت کی تمام چیزیں لے کر آئے ہیں۔ چولہے کے لیے لکڑی، پکانے کے لیے برتن، چاول – ہمارے پاس سب کچھ ہے،‘‘ منوبائی گوری نے اپنے سر پر لکڑی کا وزن سنبھالتے ہوئے کہا۔ ’’جب تک ہمارے تمام مطالبات پورے نہیں ہو جاتے، ہم یہاں سے نہیں جائیں گے۔‘‘ ۶۰ سالہ منوبائی وارلی برادری سے ہیں اور بھیونڈی تعلقہ کے دیگھاشی گاؤں میں رہتی ہیں؛ وہ اپنے گاؤں کے ۷۰-۸۰ دیگر لوگوں کے ساتھ اس مورچہ میں آئی تھیں۔
وارلی، کٹکری، مہادیو کولی، ما ٹھاکر اور دیگر آدیواسی فرقے جمعرات، ۳۰ اکتوبر کو صبح ۱۱ بجے سے ناسک، پالگھر، رائے گڑھ، تھانے اور ممبئی ضلعوں سے تھانے شہر میں جمع ہونے لگے۔ وہ یہاں کرایے کے ٹیمپو، بس، ٹرین سے گروہوں میں پہنچے۔ دوپہر کے آس پاس، عورتوں اور مردوں کا یہ مجمع، دو کلومیٹر دور ساکیت ناکہ سے تھانے شہر کے کلکٹر آفس کی طرف بڑھنے لگا۔ ان میں زرعی مزدور، قلی، صفائی ملازمین اور تعمیراتی جگہوں پر کام کرنے والے مزدور شامل تھے۔








