مایا موہِتے تین مہینے کی شیتل کی نگرانی کر رہی ہیں، جب کہ بچی کی ماں، پوجا، اپنے ٹینٹ کے قریب ہی کام کرنے گئی ہے۔ سنجے گاندھی نیشنل پارک میں کپڑے اور ترپال سے بنے دو ٹینٹ ان کے ’گھر‘ ہیں۔ مایا پتھروں پر بیٹھی ہیں اور پارک میں بہنے والے ایک چشمہ سے بھر کر لائے گئے پانی سے اپنے برتن دھو رہی ہیں، جب کہ بچی اپنے پالنے میں سو رہی ہے – جو سیمنٹ کی ایک پرانی پالی تھین کی بوری سے بنا ہے جس کے اوپر لال رنگ کا کور لگا ہے۔
’’یہاں پر کار کی پارکنگ بنانے کا کام چل رہا ہے،‘‘ مایا کہتی ہیں۔ پارکنگ ژون کی تعمیر ممبئی کے بوریولی ایسٹ میں واقع پارک کے داخلی دروازہ پر کی جا رہی ہے۔ مایا اپنی فیملی کے سات دیگر ممبران کے ساتھ دسمبر ۲۰۱۸ میں شہر آئی تھیں؛ ان کے ساتھ ان کی نند، پوجا بھی ہیں۔ ان میں سے کچھ لوگ ممبئی سے تقریباً ۷۰ کلومیٹر دور، کھوپولی کے ایک تعمیراتی مقام سے آئے تھے، جب کہ فیملی کے کچھ ممبران راجستھان کے تعمیراتی مقامات پر کام پورا کرنے کے بعد بوریولی آئے تھے۔
موہِتے فیملی کے سبھی ممبران ہر سال مانسون کے مہینوں میں، جالنہ ضلع کے جعفرآباد تعلقہ کے اپنے گاؤں، ہرپال لوٹ آتے ہیں۔ اس فیملی کا تعلق بیلدار کمیونٹی سے ہے (جو کچھ ریاستوں میں خانہ بدوش ذات کے طور پر فہرست بند ہے)۔ مایا کے والدین اور ان کے تین بھائی بھی، ہرپال اور اس کے ارد گرد کے تعمیراتی مقامات پر یا زرعی مزدور کی شکل میں کام کرتے ہیں۔ ’’میری شادی چھوٹی عمر میں ہی ہو گئی تھی۔ اس وقت میں کھیتوں میں کام کرتی تھی،‘‘ مایا کہتی ہیں، جو اب ۲۵ سال کی ہو چکی ہیں۔
مایا کے ساس سسر نے بھی، لمبے وقت تک ممبئی اور مہاراشٹر کے دیگر حصوں میں تعمیراتی مقامات پر کام کیا۔ ’’اس کے بعد انھوں نے گاؤں میں تقریباً ایک ایکڑ زمین خریدی اور واپس چلے گئے،‘’ ان کے دیور، مکیش موہِتے کہتے ہیں۔ کچھ سالوں تک انھوں نے صرف زرعی مزدوروں کے طور پر کام کرنے کی کوشش کی، لیکن اس کام میں یومیہ مزدوری تقریباً ۱۵۰-۲۰۰ روپے ہی بنی رہی، اس لیے فیملی نے تعمیراتی مقامات کا رخ کرنے کا فیصلہ کیا، جہاں یومیہ مزدوری ۴۰۰-۵۰۰ روپے تک جا سکتی ہے، مکیش بتاتے ہیں۔







