وارلی قبیلے کو بھلے ہی ان کے فن (جو مخصوص ہندسی تصویروں پر مشتمل ہوتا ہے) کے لیے جانا جاتا ہو، لیکن شمالی ممبئی کے سنجے گاندھی نیشنل پارک (ایس جی این پی) کی بستیوں میں لکڑی، اینٹوں اور اسبسطوس کے معمولی گھروں میں رہنی والی یہ برادری اس فن کو بھلا چکی ہے۔
راول پاڑہ کی رہنے والی آشا کاولے کہتی ہیں، ہم میں ’’اب صرف ایک ہی وارلی فنکار بچا ہے۔ باقی لوگ زندگی کے سرے جوڑنے میں مصروف ہیں۔‘‘ نہ تو ۴۳ سالہ آشا کو اور نہ ہی ان کے دو چھوٹے بھائیوں کو اس فن کی تعلیم دی گئی تھی۔ وہ کہتی ہیں، ’’ہمیں احساس ہی نہیں ہوا کہ یہ اہم تھا۔‘‘
مصوری کے اس فن کے واحد فنکار ۲۵ سالہ دنیش برپ ہیں، جو کہ نوا پاڑہ میں اپنی فیملی کے ساتھ رہتے ہیں، اور آشا کی بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’وارلی برادری کو اب اپنے ہی فن میں کوئی دلچسپی نہیں رہی۔‘‘ دنیش نے اپنی دادی سے مصوری سیکھی تھی۔ ان کی والدہ شامو ایک بال واڑی (بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی) کارکن ہیں۔ انہوں نے بھی اپنی والدہ سے اس فن کا سبق لیا تھا، لیکن، وہ کہتے ہیں، ’’وہ اس کی مشق پر اپنا وقت صرف نہیں کر سکتی تھیں، کیونکہ ہمارے پاس پیسے نہیں تھے۔‘‘
اس کے علاوہ، آشا کہتی ہیں کہ ایک طویل عرصے سے نیشنل پارک کی وارلی برادری ’’[بے دخلی کے] خوف میں زندگی گزار رہی ہے۔ وہ ہم سے کہتے ہیں کہ ہمیں کسی بھی وقت بے دخل کر دیں گے۔ اس کے بعد ہم کیا کریں گے؟ ہمیں کسی نامعلوم جگہ پر نیا گھر بنانا پڑے گا،‘‘ حالانکہ آشا کا خاندان ’’اس زمین پر سات نسلوں سے آباد ہے۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں، ’’مجھے جس چیز کو لے کر غصہ آتا ہے وہ یہ ہے کہ انہوں نے ہماری زمین چھینی اور اسی زمین پر ہمیں چھوٹی موٹی نوکریاں دیں گویا وہ ہم پر احسان کر رہے ہیں۔‘‘










