منجیت کور (۴۸) اپنے دونوں ہاتھوں سے، مویشیوں کے باڑے میں مٹی اور اینٹ سے بنے فرش سے بھینس کا گوبر اٹھاتی ہیں۔ اکڑوں (دو زانو) بیٹھ کر وہ فرش پر باقی بچے گوبر کو بھی صاف کرتی ہیں اور اسے ایک بالٹا (ٹب) میں جمع کرتی ہیں۔ پھر اسے اپنے سر پر اٹھاتی ہیں اور پوری احتیاط سے وزن کو سنبھالتے ہوئے لکڑی سے بنے دروازے کو پار کرتی ہیں، اور تقریباً ۵۰ میٹر دور گوبر کے ایک ڈھیر پر لے جا کر اسے پلٹ دیتی ہیں۔ گوبر کے اس ٹیلے کی اونچائی ان کے سینہ کے برابر پہنچ چکی ہے، جو اُن کی مہینوں کی محنت کا ثبوت ہے۔
یہ اپریل کا مہینہ ہے اور دوپہر کے وقت سورج کی تپش اپنے عروج پر ہے۔ منجیت، گوبر پھینکنے کے لیے اسی طرح ۸ چکّر لگاتی ہیں اور آخر میں ننگے ہاتھوں سے ہی اُس ٹب کو پانی سے دھوتی ہیں۔ آج کا کام ختم کرنے سے پہلے، وہ اسٹیل کے ایک چھوٹے سے ڈبے میں بھینس کا آدھا لیٹر دودھ نکالتی ہیں، جو اُن کے ننھے سے پوتے کے پینے کے کام آئے گا۔
وہ صبح ۷ بجے سے ہی کام کر رہی ہیں، اور یہ چھٹا گھر ہے جس کا کام انہوں نے ابھی ابھی ختم کیا ہے۔ یہ سبھی گھر جاٹ سکھوں کے ہیں، جو پنجاب کے ترن تارن ضلع کے حویلیاں گاؤں کے بڑے زمیندار ہیں اور یہاں پر انہیں کا غلبہ ہے۔
وہ کہتی ہیں، ’’مجبوری ہے۔‘‘ یہ ان کی بے بسی ہی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنا پیٹ پالنے کے لیے مویشیوں کے باڑے کی صفائی کرنے کے لیے مجبور ہیں۔ انہیں تو ٹھیک سے یہ بھی نہیں معلوم کہ اپنے سر پر وہ ایک دن میں کتنا گوبر ڈھوتی ہیں، اس کا وزن کتنا ہوتا ہے، البتہ وہ کہتی ہیں، ’’بڈّا سِر دُکھدا ہے، بھار چُکدے چُکدے [اتنا وزن اٹھانے کی وجہ سے میرے سر میں کافی درد ہونے لگتا ہے]۔‘‘
گھر لوٹتے وقت ان کے راستے میں سنہری بالیوں والے گیہوں کے کھیت دور دور تک نظر آ رہے ہیں۔ بیساکھی کے فوراً بعد ان فصلوں کی کٹائی شروع ہو جائے گی۔ بیساکھی اپریل میں ہی منائی جاتی ہے اور پنجاب میں یہ فصلوں کی کٹائی کے آغاز کا تہوار ہے۔ حویلیاں کے جاٹ سکھوں کی زیادہ تر زمین گنڈی وِنڈ بلاک میں ہے، جہاں وہ عام طور سے چاول اور گیہوں کی کھیتی کرتے ہیں۔















