ہر صبح، عارف (بائیں طرف) اور شیرو (گدھا) منڈاوا کی گلیوں میں گھوم کر سبزیاں اور پھل فروخت کرتے ہیں۔ شیرو پتّا گوبھی، پھول گوبھی، بھنڈی، بینگن، کیلے وغیرہ سے بھری گاڑی کو کھینچتا ہے، جب کہ ۴۰ سالہ عارف محمد، جو پہلے تعمیراتی مقامات پر کام کرتے تھے، اور ان کا معاون (جس نے اپنا نام بتانے سے منع کر دیا) راجستھان کے جھن جھنوں ضلع کے اس قصبہ میں پرانے اور نئے گاہکوں کے ساتھ سودے بازی کرتے ہیں۔ تقریباً آٹھ گھنٹے تک فروخت کے بعد، آدمی اور جانور شام ۵ بجے اپنا کام بند کر دیتے ہیں، تب تک ان کی ۳۰۰-۴۰۰ روپے کی کمائی ہو جاتی ہے، عارف بتاتے ہیں۔ وہ اس سے زیادہ کچھ بتانا نہیں چاہتے اور تیزی سے آگے نکل جاتے ہیں کیوں کہ فروخت کرنے کا یہی سب سے اچھا وقت ہے اور شیرو بھی بے چین ہو رہا ہے۔
راجستھان میں، خاص کر باڑمیر، بیکانیر، چورو اور جیسلمیر ضلعے میں بہت سے شیرو ہوا کرتے تھے۔ آج بھی، ہندوستان میں گدھوں کی کل آبادی کا پانچواں حصہ اسی ریاست میں ہے۔ لیکن مویشیوں کی ۲۰ویں گنتی (۲۰۱۹) کے مطابق، گدھوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ ہندوستان میں ان کی تعداد ۲۰۱۲ کی گنتی کے وقت ۳ لاکھ ۳۰ ہزار تھی، جو ۲۰۱۹ کی گنتی کے وقت گھٹ کر ایک لاکھ ۲۰ ہزار ہو گئی، یعنی تقریباً ۶۲ فیصد کی کمی۔ راجستھان میں یہ کمی ۷۲ فیصد کے قریب تھی – ۸۱ ہزار سے ۲۳ ہزار۔



