تول مول کی طاقت نہ ہونے کے سبب، مہاجر کرگھا مزدوروں کے حادثہ اور موت کے معاملوں کی سنوائی بہت کم ہوتی ہے، سورت میونسپل کونسل میں اسسٹنٹ سینٹری انسپکٹر، جے کے گامِت کہتے ہیں۔ ’’مزدوروں کی فیملی کافی دور اپنے گاؤوں میں ہوتی ہے اور شہر میں ان کے دوست بھی کرگھوں میں کام کر رہے مزدور ہیں۔ ان کے پاس پولس اسٹیشن تک جانے یا معاملے کی کارروائی پر نظر رکھنے کی فرصت نہیں ہوتی،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’زخم اور اموات کی تعداد کا کوئی سرکاری دستاویز نہیں ہے۔ معاملہ فوراً ہی بند کر دیا جاتا ہے۔‘‘
عام طور پر، اگر کرگھے میں موت ہوئی ہے، تو پولس میں معاملہ درج ہوتا ہے۔ لیکن یہ ایک قانونی اور طبی دستور ہے، اور گرفتاریاں بہت ہی کم ہوتی ہیں۔ معاوضے کا دعویٰ کرنے کے لیے، فیملی کو محکمہ محنت سے رابطہ کرنا پڑتا ہے۔ اگر یہ دعویٰ زخم کے لیے ہے، تو مزدور کی نوکری داؤ پر لگ سکتی ہے کیوں کہ اس سے آجر ناراض ہو جائے گا۔ زیادہ تر لوگ معاملے کا نمٹارہ عدالت کے باہر ہی کر لینا چاہتے ہیں۔
تو نوجوان بِکاش گوڈا کی موت کے چار دن بعد، ۲۹ اپریل کو ان کے آجر نے فیملی کو معاوضہ کے طور پر ۲ء۱۰ لاکھ روپے دیے اور صاف کہا کہ کوئی اور دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔ عام طور پر، آجر زیادہ سے زیادہ ۵۰ ہزار روپے ہی ادا کرتے ہیں، تاکہ وہ معاملے کو بند کر سکیں – اور اس کارروائی میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔ مذکورہ معاملے میں، چونکہ پی ایس ایس ایم اور آجیویکا بیورو نے مداخلت کی تھی، اس لیے معاوضہ کی رقم میں اضافہ اور اسے تیزی سے جاری کر دیا گیا۔
تین نوکریاں داؤ پر تھیں، اس لیے فیملی راضی ہو گئی۔
گنجم سے گجرات تک
سورت اڑیہ کلیان سنگھ کے رکن، راجیش کمار پادھی کا اندازہ ہے کہ گنجم کے کم از کم ۸ لاکھ مزدور سورت میں رہتے ہیں۔ ان میں سے تقریباً ۷۰ فیصد شہر کے پاورلوم سیکٹر میں کام کرتے ہیں۔ ’’اوڈیشہ اور سورت کے درمیان مہاجر گلیارہ تقریباً ۴۰ سال پہلے کھلا تھا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ پی ٹی آر سی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’’گنجم کو اوڈیشہ میں حالانکہ ایک ترقی یافتہ ضلع مانا جاتا ہے، لیکن قدرتی وسائل کا کم ہونا، زرعی زمین میں کمی اور لگاتار سیلاب اور خشک سالی نے مہاجرت میں اضافہ کیا ہے۔‘‘
لیکن گنجم کے مہاجرین کو سورت کی دوسری بڑی صنعت – ہیرا – میں بھرتی نہیں کیا جاتا ہے، جگدیش پٹیل بتاتے ہیں۔ ’’یہ نوکریاں عام طور پر مقامی گجراتی مزدوروں کے لیے ریزرو ہیں کیوں کہ آجر صرف ’اپنے بھروسہ مند‘ لوگوں کو ہی بھرتی کرتے ہیں۔ گنجم کے مزدور کرگھا اکائیوں میں نچلے سرے پر ہی بنے ہوئے ہیں اور سالوں سے مشین چلانے کا کام روزانہ اسی طرح سے کرتے آ رہے ہیں۔
پھر بھی، ان مزدوروں کا کہنا ہے کہ یہاں کی حالت ان کے گھر سے بہتر ہے۔ سیمانچل ساہو، یہ بھی پی ایس ایس ایم کے ایک رکن ہیں، کہتے ہیں، ’’گنجم میں حالات بہت چنوتی بھرے ہیں۔ شروع میں ہو سکتا ہے کہ کچھ ہی مزدوروں نے مہاجرت کی ہو، لیکن اس کے بعد اب یہ بڑے گروہوں میں آ رہے ہیں، کچھ اپنے اہل خانہ اور پڑوسیوں کے ساتھ۔‘‘