منگل، ۲۷ نومبر کو شام ۴ بجے کے بعد، ایک بھیڑ مرکزی دہلی میں راجیو چوک میٹرو اسٹیشن کے باہر جمع ہوئی ہے۔ ان میں آٹورکشہ ڈرائیور، طلبہ، سیلز مین، متوسط طبقہ کے پیشہ ور اور دیگر لوگ شامل ہیں۔ سڑک کنارہ کھڑے ہو کر، وہ زراعت سے متعلق امور پر گفتگو کر رہے ہیں۔ نیشن فار فارمرس (کسانوں کے لیے ملک) اور آرٹسٹ فار فارمرس (کسانوں کے لیے فنکار) کے رضاکاروں کا ایک گروپ – بینر پکڑے ہوا ہے اور پرچے تقسیم کر رہا ہے، جس میں زرعی بحران پر مرکوز ۲۱ دنوں کے لیے پارلیمنٹ کا ایک خصوصی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قریبی سنٹرل پارک میں بیٹھے کچھ لوگ، رضاکاروں کو دیکھتے ہیں اور مارچ اور بحران کے بارے میں سوال پوچھنا شروع کر دیتے ہیں۔ ایک مذاکرہ شروع ہوتا ہے۔ ان میں سے کچھ لوگوں کے قول یہاں دیے جا رہے ہیں:
T


New Delhi, Delhi
|FRI, DEC 14, 2018
کسانوں کے مارچ پر دہلی کی رائے
کسانوں کی ۲۹ نومبر کو شروع ہونے والی ایک بڑی ریلی کے بارے میں دہلی کے لوگ کیا کہہ رہے ہیں
Author
Translator

Sanket Jain
۲۸ سالہ سونو کوشک، کناٹ پلیس میں باٹا کی ایک دکان میں کمپیوٹر آپریٹر کا کام کرتے ہیں۔ وہ ہریانہ کے جھجھر ضلع اور بلاک کے اہری گاؤں سے ہیں۔ ’’پچھلے سال، میرے گاؤں کے کسانوں کو ایک کوئنٹل باجرا صرف ۱۰۰۰ روپے میں بیچنا پڑا تھا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ ’’کسان زندہ کیسے رہے گا؟ میں اس مارچ میں اپنے بہت سے دوستوں کو لاؤں گا۔‘‘ وہ ارد گرد موجود دوسرے لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ کسان خودکشی کیوں کر رہے ہیں۔ ’’کسان کبھی چھٹی نہیں لیتا ہے، رات دن کام کرتا ہے، پھر بھی اسے پیداوار کی کوئی قیمت نہیں ملتی۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟‘‘ وہ ان سے سوچنے کے لیے کہتے ہیں کہ کسان دوبار دہلی آخر کیوں آ رہے ہیں، اور کہتے ہیں کہ وہ اسے بحران کا وقت سمجھیں، سیاسی ایشو کے طور پر نہ دیکھیں۔

Sanket Jain
دہلی کے پیتم پورہ علاقے کی ۸۰ سالہ گھریلو خاتون، کملیش جولی کہتے ہیں، ’’کسانوں کی خستہ حالی کے بارے میں پہلے میں بہت کچھ جانتی تھی، لیکن اب اپنی صحت کی وجہ سے میں ان سے پوری طرح کٹ گئی ہوں،‘‘ وہ مجھ سے مارچ کے مقام اور تاریخ کے بارے میں پوچھتی ہیں۔ ’’میں اس کا حصہ بنوں گی،‘‘ وہ وہیں پر فیصلہ کر لیتی ہیں۔

Sanket Jain
اتر پردیش کے انّاؤ ضلع کے صافی پور قصبہ کے رہنے والے، ۲۲ سالہ دِویانشو گوتم، دہلی یونیورسٹی سے ریاضی میں ماسٹر ڈگری کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ’’میں نے کسان فیملی کے اپنے دوستوں سے سنا ہے کہ انھیں کبھی بھی اپنی پیداوار کی مناسب قیمت نہیں ملتی۔ وہ مجھے بتاتے ہیں کہ پیداوار بچانے کے لیے ضروری، کولڈ اسٹوریج کی بہت سی اکائیاں پرائیویٹ کمپنیوں کے ذریعے کنٹرول کی جاتی ہیں [جو بہت زیادہ پیسے لیتی ہیں]۔ یہ رکنا چاہیے اور کسانوں کو سبسڈی والے کولڈ اسٹوریج کی سہولت ملنی چاہیے۔‘‘

Sanket Jain
مرکزی دہلی کے ۲۴ سالہ آکاش شرما، تیس ہزاری کورٹ میں ایک کلرک ہیں۔ ’’سبزیوں کی قیمت بڑھنے پر لوگ ہمیشہ کسانوں کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ کچھ سال پہلے، جب پیاز کی قیمت بڑھی تھی، تو ہر کوئی کسانوں پر جھوٹا الزام لگا رہا تھا کہ وہ جمع خوری کرکے قیمتیں بڑھا رہے ہیں۔ انھیں کسانوں کے مسائل کو سمجھنا چاہیے اور قصوروار نہیں ٹھہرانا چاہیے۔‘‘

Sanket Jain
اترپردیش کے جونپور ضلع کے برساتھی بلاک کے مہواری گاؤں کے ۵۰ سالہ آٹو رکشہ ڈرائیور، اے پرکاش یادو پوچھتے ہیں، ’’کسان دوبارہ مارچ کیوں نکال رہے ہیں؟ کیا ان کے مطالبات تب پورے نہیں ہوئے تھے جب انھوں نے [مارچ ۲۰۱۸ میں، ناسک سے] ممبئی تک مارچ نکالا تھا؟‘‘ پھر وہ از سر نو غور کرتے ہیں اور آگے کہتے ہیں، ’’کسان بہت کام کرتے ہیں، لیکن انھیں اپنی پیداوار کا کچھ بھی نہیں ملتا۔ میں ۲۹ اور ۳۰ نومبر کو کچھ گھنٹے تک آٹو نہیں چلاؤں گا اور مارچ میں آؤں گا۔‘‘

Sanket Jain
دہلی کے ایک فری لانس فوٹو گرافر، ۳۰ سالہ وکی رائے کہتے ہیں، ’’لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ شہری علاقوں میں ہم سبھی، کسانوں کی سبسڈی پر رہ رہے ہیں۔ کسانوں کو ان کی پیداوار کی کبھی بھی [مناسب] قیمت نہیں ملتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے اور ان کی حمایت کرنی چاہیے۔‘‘
(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)
Want to republish this article? Please write to [email protected] with a cc to [email protected]
Donate to PARI
All donors will be entitled to tax exemptions under Section-80G of the Income Tax Act. Please double check your email address before submitting.
PARI - People's Archive of Rural India
ruralindiaonline.org
https://ruralindiaonline.org/articles/کسانوں-کے-مارچ-پر-دہلی-کی-رائے

