مئی کے آخر میں، نکھیرپا گڈّیَپّا نے اپنے کوکون کی اچھی قیمت پانے کی امید میں ہویری تعلقہ سے رام نگر بازار تک کا سفر کیا۔ ۳۷۰ کلومیٹر کا یہ سفر انہوں نے بنا رکے ۱۱ گھنٹے میں پوری کیا۔ لیکن رات کے وقت ٹیمپو کے ذریعے سفر کرنے سے انہیں ڈر بھی لگ رہا تھا۔ دوسری طرف، سڑک کے کنارے کھانے کی سبھی دکانیں لاک ڈاؤن کے سبب بند تھیں۔ اوپر سے یہ تشویش کہ اگر کوکون کی قیمت کم ملی، تب کیا ہوگا؟
ہویری ضلع کے اپنے گاؤں، ہنڈِگنور لوٹتے وقت ان کی امیدوں پر پانی پھر چکا تھا – اور خوف سچائی میں بدل گیا تھا۔ انہوں نے اپنے کل ۲۵۰ کلوگرام کوکون کو صرف ۶۷۵۰۰ روپے – یا ۲۷۰ روپے فی کلو – میں فروخت کیا تھا۔
مارچ کی ابتدا میں، شادی کے سیزن میں کافی زیادہ مانگ ہونے کی وجہ سے بائی وولٹین کوکون تقریباً ۵۵۰ روپے فی کلو اور کراس بریڈ کوکون اوسطاً ۴۸۰ روپے فی کلو فروخت ہو رہا تھا۔ دیگر موسموں میں، بائی وولٹین سلک کوکون کی اوسط قیمت ۴۵۰-۵۰۰ روپے اور کراس بریڈ سلک کوکون کی ۳۸۰-۴۲۰ روپے فی کلو ہوتی ہے۔ (بائی وولٹین سفید رنگ کا سب سے معیاری کوکون ہوتا ہے؛ کراس بریڈ کوکون پیلے رنگ کے ہوتے ہیں جنہیں سخت ادنیٰ معیار والے اور بائی وولٹین کے بقیہ جات کو ملاکر تیار کیا جاتا ہے۔)
’’میں نے کوکون کی پیداوار کے لیے اپنی آبائی زمین پر [۲۰۱۴ میں] شہتوت لگانا شروع کیا تھا۔ اب، ہم انہیں معمولی قیمتوں پر بیچنے کے لیے مجبور ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں اپنا قرض کیسے چکاؤں گا،‘‘ ۴۲ سالہ گڈیپّا کہتے ہیں۔
سال ۲۰۱۴ تک، گڈیپّا کرناٹک کے ہویری ضلع میں کھیتوں پر کام کرکے ۱۵۰-۱۷۰ روپے یومیہ مزدوری پاتے تھے۔ ان کی ۱۰ رکنی فیملی خود کے استعمال اور بازار میں فروخت کرنے کے لیے اپنی تین ایکڑ زمین پر عام طور سے جوار اور مونگ پھلی کی کھیتی کرتی تھی۔ سال ۲۰۱۶ میں، گڈیپا نے جوار اور مونگ پھیلی اُگانے کے لیے مزید پانچ ایکڑ زمین بٹائی پر لے لی، جب کہ باقی زمین پر شہتوت لگا دیے – اس امید میں کہ اس سے ان کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔
گڈیپا اور دیگر کسان کوکون کو ہر ۳۵-۴۵ دنوں میں ایک بار – یا سال میں تقریباً ۱۰ بار بیچتے ہیں۔ چوکی (ریشم کے چھوٹے کیڑے) کو کوکون بننے میں تقریباً ۲۳ دن لگتے ہیں۔ اس بار، گڈیپا نے مئی کے پہلے ہفتہ میں کیڑے کو پالنا شروع کیا تھا۔ انہوں نے کوکون کی دیکھ بھال کرنے پر روزانہ تقریباً ۱۰ گھنٹے لگائے اور یقینی بنایا کہ نمی سے انہیں کوئی بیماری نہ ہو جائے۔ پھر مئی کے آخر میں وہ کوکون کو لیکر رام نگر بازار گئے – جہاں انہیں یہ نقصان اٹھانا پڑا۔







