جوبن لال کُہل، جسے مرمت کی ضرورت ہے، کے کنارے چلتے ہوئے کاندباڑی گاؤں کے لوگوں کو بلاتے ہیں۔ وہ کنبوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے لیے آواز لگاتے ہیں۔ ’’اپنے کُدال اور پھاوڑے ساتھ لائیں اور مجھ سے ڈاکخانہ کے پیچھے ملیں،‘‘ ایک گرم صبح کو وہ کہتے ہیں۔ لیکن ان کے لیے ۲۰ کارکنوں کو بھی جمع کرنا مشکل ہے۔ ’’تقریباً ۳۰ سال پہلے تک، خاص طور سے ربیع اور خریف کی بوائی کے موسم میں، جب کوہلی کو بلایا جاتا تھا، تو ۶۰-۸۰ مردوں کا گروپ کام کرنے کے لیے اکٹھا ہو جایا کرتا تھا،‘‘ وہ یاد کرتے ہیں۔ کُہل عام طور پر دو میٹر چوڑے اور دو میٹر گہرے ہوتے ہیں، اور ۱۰۰ میٹر سے لے کر ایک کلومیٹر تک پھیل سکتے ہیں۔
جوبن لال (۵۵)، کانگڑہ ضلع کی پالم پور تحصیل کے تقریباً ۴۰۰ لوگوں کے گاؤں، کاندباڑی کے کوہلی ہیں (یہ گاؤں مردم شماری میں کملیہر کے نام سے درج ہے)۔ انھیں یہ کام اپنے والد سے وراثت میں ملا تھا، حالانکہ ان کے دادا کوہلی نہیں تھے۔ ’’کسی نے شاید اس کام کو چھوڑنے کا فیصلہ کیا، اب یہ محترم کام نہیں رہا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’اور میرے والد کو گاؤں والوں نے منتخب کیا ہوگا۔‘‘
کوہلی روایتی طور پر کُہل کے مختار ہوا کرتے تھے، جنہیں اس مقامی آبی نظام کے نظم و نسق کی گہری جانکاری ہوتی تھی۔ وہ کُہل دیوی (حالانکہ کوہلی روایتی طور پر ہمیشہ مرد ہی ہوتا ہے) کے لیے قربانی دیتے اور پوجا کرواتے تھے۔ پہلے زمانے میں، ہماچل پردیش کے بہت سے لوگ یہ مانتے تھے کہ ان کی نہروں کی حفاظت ایک دیوی کرتی ہیں۔ خشک سالی کے وقت بھی، اگر وہ نہروں کی اچھی نگرانی کرتے، تو دیوی انھیں بھرپور پانی دیتی تھیں۔ سیلاب کو روکنے کے لیے، کوہلی ایک صوفی سنت (گاؤں والوں کو نام یاد نہیں ہے) کی بھی پوجا کرتے تھے، جو کانگڑہ وادی میں شاید ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔









