’’اے کومل! کائے مال آہے!‘‘ ’’اے لال، چھان دِستے!‘‘ مرد چھیڑتے ہیں۔ اسٹیج پر رقص کر رہیں پندرہ سالہ کومل کو اپنے لباس کے رنگ یا اپنے نام کے ساتھ اس طرح کے فقرے سننے کی عادت پڑ گئی ہے۔ وہ کہتی ہیں، ’’تماشائیوں میں سے کچھ مرد مجھے متوجہ کرنے کے لیے ایک دوسرے سے مسابقت کرتے ہیں۔ اگر میں کسی شخص کی جانب دیکھ لیتی ہوں، تو اس کا دوست چیخ کر کہتا ہے، ’اس کی طرف مت دیکھو، اس کی ایک گرل فرینڈ ہے! مجھے دیکھو‘۔‘‘
منگلا بنسوڈے اور نتن کمار تماشہ منڈل کی رقاصائیں بھی یہ دیکھنے کے لیے ایک دوسرے سے مقابلہ کرتی ہیں کہ کس کی پذیرائی سب سے زیادہ ہو رہی ہے۔ ۱۸ برس کی کاجل شندے کہتی ہیں کہ وہ سیٹی بجانے اور زور زور سے آوازیں کسنے کے لیے مردوں کو اکساتی ہیں۔ تماشائیوں کو چھیڑتے ہوئے کہتی ہیں، ’’کیا آپ نے کھانا نہیں کھایا… طبیعت تو ٹھیک ہے؟‘‘ وہ اپنے کانوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں، ’’ہمیں آپ کی آواز سنائی نہیں دی!‘‘
کاجل اور کومل لیڈ رقاصہ ہیں۔ یہ دونوں تقریباً ۱۵۰ دیگر فنکاروں اور مزدوروں کی طرح سینئر تماشہ فنکار منگلا بنسوڈے کی سربراہی والے پھڈ (منڈلی) میں کام کرتی ہیں۔ مہاراشٹر کے دیہاتوں میں تماشہ اب بھی ایک مقبول عام لوک آرٹ ہے۔ یہاں ستمبر سے مئی کے دوران تماشہ (شو) دکھانے کا موسم رہتا ہے۔ اس موسم میں یہ تقریباً ہر روز مختلف گاؤوں کا سفر کرتے ہیں۔ ان کے شو تقریباً ۱۱ بجے رات سے شروع ہوتے ہیں، اور کبھی کبھی طلوع آفتاب تک جاری رہتے ہیں۔ شو سے قبل ایک آؤٹ ڈور اسٹیج تیار کیا جاتا ہے جس پر یہ اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں، اور شو کے اختتام پر اسٹیج کو اٹھا لیا جاتا ہے۔ منگلا تائی کی منڈلی کامیاب ترین تماشہ منڈلیوں میں سے ایک ہے۔ لیکن بہت سی دوسری منڈلیاں ٹکٹوں کی فروخت اور منافع میں آئی کمی سے جوجھ رہی ہیں۔ (دیکھیں ’تماشہ ایک جیل ہے، جس میں میں رہنا چاہتا ہوں‘، اور تماشہ کا سفر تبدیلی کے ساتھ جاری ہے)













