زیادہ تر بھگت مقامی ہیں (اور سبھی مرد ہیں)، جو ان کنبوں کے لیے پوری طرح شناسا ہیں جو اُن سے مدد حاصل کرتے ہیں۔ کالو جنگلی، جو نرملا کا علاج کر رہے تھے، کا ٹھاکر قبیلہ سے ہیں۔ وہ ۳۰ برسوں سے مقامی طبیب ہیں۔ ’’یہ رسوم ہمیشہ سے ہماری آدیواسی ثقافت کا اندرونی حصہ رہے ہیں،‘‘ انہوں نے مجھے جاگرن کی شب بتایا۔ ’’نرملا کے معاملے میں، اس جاگرن کے بعد اگلی صبح کو، ہم ایک مرغ کی بلی (قربانی) دیں گے اور اس کے پوری طرح صحت مند ہونے کے لیے پرارتھنا کریں گے۔ یہ رسم تبھی انجام دی جاتی ہے جب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ مریض کے ارد گرد کوئی منفی طاقت ہے۔ ہم ان منتروں (دعائیہ کلمات) کو جانتے ہیں جو اس بری طاقت کو دور کر سکتے ہیں۔‘‘
حالانکہ، بھگت زیادہ تر ادویاتی خصوصیات والی جڑی بوٹیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ ’’ہم مناسب پھول، پتیاں اور گھاس چننے جنگل جاتے ہیں، اور درخت کی چھال کے ٹکڑے اکھاڑتے ہیں،‘‘ کالو کہتے ہیں۔ ’’پھر ان سے ہم کاڑھا تیار کرتے ہیں یا کبھی کبھی جڑی بوٹیوں کو جلاکر ان کی راکھ مریضوں کو کھانے کے لیے دیتے ہیں۔ یہ عام طور پر تب کام کرتی ہے، جب آدمی کو کوئی منفی طاقت نہ گھیرے ہو۔ لیکن اگر کچھ ہمارے قابو سے باہر ہوا، تو ہم انہیں اسپتال جا کر علاج کرانے کے لیے کہتے ہیں۔‘‘
جس طرح سے کالو طبی سہولیات کے رول کو تسلیم کرتے ہیں، اسی طرح ابتدائی طبی سہولیات (پی ایچ سی) اور ڈاکٹر بھی روایتی طبیبوں کو خارج نہیں کرتے۔ چاس سے تقریباً ۲۰ کلومیٹر دور، واشلا گاؤں کے پی ایچ سی میں میڈیکل آفیسر، ڈاکٹر پُشپا گواری کہتی ہیں، ’’ہم انہیں [اپنے مریضوں کو] کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے علاج سے مطمئن نہیں ہیں، تو بھگتوں سے بھی صلاح لے لیں۔ اگر آدیواسی بھگت کے علاج سے مطمئن نہیں ہیں، تو وہ دوبارہ ڈاکٹروں کی صلاح لیتے ہیں۔‘‘ اس سے ڈاکٹروں کو مقامی برادریوں کے تئیں مخالفت نہیں جتانے میں مدد ملتی ہے، وہ کہتی ہیں۔ ’’یہ اہم ہے کہ لوگوں کا اعتماد طبی سہولیات اور ڈاکٹروں میں بھی بنا رہے۔‘‘
’’وہ [ڈاکٹر] اکثر ایسے کچھ معاملوں میں ہماری مدد لیتے ہیں، جنہیں وہ سمجھا نہیں سکتے،‘‘ واشلا کے ۵۸ سالہ بھگت، کاشی ناتھ کدم کہتے ہیں۔ ’’مثال کے طور پر، ایک عورت تھی، جو کچھ مہینے پہلے، بغیر کسی معقول وجہ کے، پاگل ہو گئی تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے اس کے اوپر بھوت پریت ہو۔ تب میں نے اسے زوردار تھپڑ مارا اور منتروں کا جاپ کرکے اسے خاموش کرنے میں کامیاب ہوا۔ بعد میں اسے ڈاکٹروں نے دوا دی۔‘‘