اس درمیان، چراڈپاڑہ کی ماہی گیروں کی بستی کے ۴۵ سالہ انکُش واگھے، مچھلی پکڑنے کے لیے اپنی کشتی تیار کرنے، اپنی جھونپڑی کے پاس ڈھلان والے راستے سے ندی کی طرف جا رہے ہیں۔ ’’میرے والد بھی اسی راستے سے ندی کی طرف جایا کرتے تھے۔ سڑک [شاہراہ] کی تعمیر ہوتے ہی یہ بند ہو جائے گا۔ اور وہ سبھی سیمنٹ، مشینیں ہماری ندی کو آلودہ کریں گی۔ اس سے شور پیدا ہوگا۔ مچھلیاں کیسے بچیں گی؟ ندی ہماری ماں ہے۔ اس نے ہمیں کھلایا ہے۔‘‘
انکش کی تشویش ماحولیاتی اثر کے تجزیہ کی رپورٹ میں بھی جھلکتی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پل کی تعمیر کے لیے ضرورت ہے ’’پانی کے اندر بنیاد ڈالنے کے کام کی جس میں کھدائی، ڈریلنگ اور پائلنگ کے کام شامل ہیں... پل کی بنیاد ڈالتے وقت کچھ مقدار میں ملبے نکل سکتے ہیں... [جس کے سبب] میلاپن میں عارضی اضافہ ہوگا اور اس سے پانی آلودہ ہوگا... تلچھٹ اور گاد سے بھاٹسا جھیل، جو مجوزہ پروجیکٹ کے جنوب مشرق میں واقع ہے، بھی کافی حد تک متاثر ہوگی۔‘‘
’’ہم کیا کریں گے؟‘‘ انکُش کی بیوی، ہیرا بائی تشویش ظاہر کرتی ہیں۔ ان کا بڑا بیٹا، ۲۷ سالہ وِٹھّل بھی شاہراہ کی وجہ سے اپنی جھونپڑی کھو دے گا – جو چار میں سے ایک ہے۔ وہ تقریباً ۶-۷ کلومیٹر دور، ساوڈ گاؤں کے پاس ایک پتھر کے کان میں کام کرتا ہے، اور پتھر توڑنے اور انھیں ٹرکوں پر لادنے کے ۱۰۰ روپے یومیہ پاتا ہے۔ ’’ہم سبھی بھیونڈی کے پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ گئے تھے [نومبر ۲۰۱۸ میں]،‘‘ وِٹھّل بتاتے ہیں۔ ’’انھوں نے پوچھا کہ کیا ہمیں خالی کرنے کا نوٹس ملا ہے [جو انھیں ابھی تک نہیں ملا ہے]۔ ہمارے درمیان کوئی بھی اعلیٰ تعلیم یافتہ نہیں ہے۔ ہم کچھ نہیں جانتے۔ ہمیں متبادل زمین ملنی چاہیے۔ اگر کل کو وہ ہمیں یہاں سے جانے کے لیے کہتے ہیں، تو ہم کہاں جائیں گے؟‘‘
ندی کی تباہی، سماجوں کی بے دخلی، بازآبادکاری – یہ اور دیگر تشویشوں کو دسمبر ۲۰۱۷ میں، مہاراشٹر آلودگی کنٹرول بورڈ کے ذریعے تھانے ضلع کے واشلا کھ گاؤں میں منعقد ایک عوامی شنوائی میں اٹھایا گیا تھا۔ لیکن تشویشوں کو نظرانداز کر دیا گیا۔
شام ۴ بجے، دھروپد کا بیٹا تِلاپیا مچھلی سے بھری پلاسٹک کی ٹوکری کے ساتھ گھر لوٹتا ہے۔ دھروپد پڈگہا بازار جانے کے لیے تیار ہوتی ہیں۔ ’’میری زندگی مچھلی بیچنے میں ہی گزری ہے۔ وہ ہمارے منھ سے اسے بھی کیوں چھین رہے ہیں؟ پہلے تو اس غبار آلودہ راستے کی مرمت کیجئے۔ ہمیں بازار تک ایک لمبا راستہ طے کرنا پڑتا ہے،‘‘ ٹوکری میں پھڑپھڑاتی مچھلی پر پانی چھڑکتے ہوئے، وہ کہتی ہیں۔
(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)