نیامگیری کی گرام سبھا نے کئی معنوں میں ہندوستان کی پہلی ماحولیاتی استصواب رائے حاصل کی ہے، اور سابقہ درجہ بندی (ہائی رارکی) کے خاتمے اور ایک باضابطہ طاقت کے ابھرنے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ گرام سبھا میں لوگوں کے اظہار خیال نے آخر کار اس جنوری میں ماحولیات اور جنگلات کی وزارت کو باکسائٹ کی کان کنی کی اجازت کو مسترد کرنے پر مجبور کیا۔ اِسترداد کے اس عمل سے بشمول اڑیسہ ملک کے متعدد وسائل سے مالا مال علاقوں میں ایک وسیع تر تنازعہ کو بہت بڑی راحت ملی ہے۔
ایک دہائی پر محیط یو پی اے کے دور حکومت کے ذریعہ منظور شدہ دو نئے قوانین، حقوق جنگلات قانون (جس کے تحت سپریم کورٹ نے گرام سبھا کے قیام کا حکم دیا تھا) اور حق اطلاعات قانون، مقامی برادریوں کو سوالات اٹھانے اور رائے دینے کے لیے بااختیار بنا کر فیصلہ سازی کے عمل کو مزید جمہوری بنایا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہیں غیرمنظم اور غیر متوقع بھی بنا رہے ہیں۔ غیر ریاستی اداکاروں کی طرف سے کارپوریٹ کارگزاریوں کی زیادہ جانچ پڑتال مقامی آبادیوں کے خلاف دھاندلی اور ان کے وسائل کے یکطرفہ حصول میں کمی کا باعث بن رہی ہے۔
مزید یہ کہ حکومتیں اور کمپنیاں بڑے اقتصادی منصوبوں کے تحت معدنیات سے بھرپور علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کچھ وسائل، جیسے کوئلہ، ہندوستان کی بڑھتی ہوئی صنعتی اور صارفین کی بجلی کی مانگ کو پورا کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ دیگر، مثلاً خام لوہا، منافع بخش خام برآمدات کے ذریعے دولت اور طاقت کے حصول کا ایک غیر قانونی اور فوری راستہ پیش کرتے ہیں، جیسا کہ اڑیسہ، کرناٹک اور گوا کے لیے قائم شاہ کمیشن کے نتائج نے اشارہ کیا ہے۔
کالاہانڈی کے موجودہ رکن پارلیمنٹ اور کانگریس امیدوار بھکت چرن داس کے مطابق بڑھتی ہوئی مانگ کے ساتھ تنازعات بھی ناگزیر ہو گئے ہیں۔ ’’لیکن گرام سبھائیں حکومت اور صنعت کی توجہ مبذول کراتی ہیں۔‘‘
سال ۱۹۹۶ میں لوک سبھا میں اپنی ایک تقریر میں چندر شیکھر حکومت میں ریلوے کے سابق وزیر بکت چرن داس نے کالاہانڈی میں ایلومینیم پلانٹ لگانے کی پرزور وکالت کی تھی۔ انہوں نے اب کہا کہ وہ نیامگیری میں کان کنی کی مخالفت کرتے ہیں، اور اس کی بجائے زرعی بنیادوں پر مبنی صنعتوں کی حمایت کرتے ہیں، ’’جو ضلع کی سالانہ زرعی پیداوار کی ۶۰۰۰ کروڑ روپے کی مالیت میں اضافہ کر سکتی ہے۔‘‘ بھکت چرن، جو راہل گاندھی کو ۲۰۰۸ میں نیامگیری کے اجیروپا جیسے علاقوں کے دورے پر لے آئے تھے، نے اپنے بدلے ہوئے موقف کا دفاع کیا: ’’میں نے کبھی نہیں کہا کہ صنعت کاری کو اندھا اور سفاک ہونا چاہیے۔ جب میں نے تقریر کی تھی تو مجھے غربت میں کمی کی فکر تھی۔ جب میں نے قبائل کے بے ساختہ احتجاج کو دیکھا اور ان جنگلات کا دورہ کیا تو مجھے احساس ہوا کہ ان کی قیمت پر کان کنی نہیں ہو سکتی۔‘‘
یہ صرف دور افتادہ خود کفالتی جنگل کی معیشتیں ہی نہیں ہیں جو ہندوستان کی سب سے زیادہ کان کنی والی ریاست (جہاں ملک کے باکسائٹ کا ۶۰ فیصد، اس کے لوہے کا ایک تہائی اور کوئلہ کا ایک چوتھائی حصہ ہے) میں بھاری سرمایہ کاری والی بڑی صنعتوں کے لیے چیلنج پیش کر رہی ہیں، بلکہ خوشحال زرعی آبادی والے گاؤں بھی کان کنی کے لیے اپنی زندگیوں کو تبدیل کرنے کے خواہاں نہیں ہیں، جیسا کہ ریاست کے ساحلی علاقوں میں دیکھا گیا ہے۔ یہاں پوہانگ اسٹیل کمپنی یا پوسکو کے ذریعے اسٹیل پلانٹ کی تعمیر کے لیے تحویل میں لیے جانے والے گاؤوں میں آٹھ سال سے احتجاج جاری ہے۔ یہ منصوبہ ملک کی سب سے بڑی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے معاہدے کی نمائندگی کرتا ہے، اور اسے وزیر اعظم کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔
پچھلے ہفتے، وہاں سے مغرب کی جانب، کوئلے سے مالا مال انگل ضلع کے چھینڈی پاڑہ بلاک میں، ۹ گاؤوں نے اجتماعی طور پر فیصلہ کیا کہ وہ ۱۰ اپریل کو ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طریقہ ان کے مطالبے پر توجہ مبذول کرانے کے لیے اختیار کیا گیا تھا کہ زمین کے حصول کے نئے قانون کے تحت ان کے علاقے میں گرام سبھا کا قیام عمل میں آنا چاہیے، جہاں وہ کوئلے کی کان کے لیے اپنی زمینوں کے حصول کی مخالفت کا باضابطہ اظہار کر سکیں۔ یکم جنوری ۲۰۱۴ سے لاگو ہو رہے نئے قانون میں زمین مالکان کی رضامندی کے اہتمام کو متعارف کرایا گیا ہے۔
کوئلے کی وزارت کے دستاویزات میں، ۲۵۰۰ سے زیادہ رہائشیوں والے ۹ گاؤوں کو مستطیل نما ماچھاکاٹ کول بلاک کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ اس بلاک کی کان کنی گجرات میں واقع اڈانی کے صنعتی گھرانے کے ذریعے کی جائے گی۔ اس کا مقصد مہاراشٹر اور گجرات کے لیے بجلی پیدا کرنا ہوگا۔ سال ۲۰۱۲ کے ایک چھوٹے آن لائن پریزنٹیشن میں اڈانی کے منصوبے کے تحت پچھلے سال ماچھاکاٹ میں پیداوار کی شروعات کرنے کا اعادہ کیا گیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت کمپنی کے کوئلے کی کان کنی اور تجارت کو ۲۰۱۲ میں ۳۶ ملین ٹن سالانہ سے بڑھا کر ۲۰۲۰ میں ۳۰۰ ملین ٹن سالانہ تک کرنا ہے۔
چِھنڈی پاڑہ کے کسانوں کے خیالات کچھ اور ہیں۔ پچھلے تین سالوں میں سڑکوں پر رکاوٹیں اور رہائشیوں کے احتجاج، جو اکثر پرتشدد ہو جاتے ہیں، نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ انتظامیہ کان کے لیے ماحولیاتی کلیئرنس کے طریقہ کار کے حصے کے طور پر عوامی سماعت منعقد کرنے سے قاصر ہے۔
نیامگیری کے کوندھوں کے بالکل برعکس، جن میں سے بہت کم لوگوں نے اسکول کی تعلیم حاصل کی تھی یا وہ قانون کی باریکیوں اور حکومت سے مقابلہ کرنے والے حربوں میں دلچسپی رکھتے تھے، بگڈیا کے کالج کے تعلیم یافتہ باشندوں نے پالیسی میں تبدیلیوں کو قریب سے دیکھا۔ انہوں نے انٹرنیٹ سرف کیا، معلومات کے حق کی درخواستیں دائر کیں، عدالتوں کا رخ کیا اور یہ ٹریک کیا کہ کون سی پارٹی کیا کہہ رہی ہے۔ ’’حصول اراضی کا نیا قانون پاس ہو چکا ہے، لیکن ہمارے مقامی کانگریس ایم پی اس کی حمایت کیوں نہیں کر رہے؟‘‘ بگڈیا کے رہائشی اور انجینئرنگ لیکچرر ستیہ برت پردھان نے ایک حالیہ دوپہر کو ایک انٹرویو میں وضاحت کی کہ ان کے گاؤں سمیت ۹ دیگر گاؤوں اپریل میں ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ کیوں کریں گے۔ ’’نئے قانون کے تحت گرام سبھا کی رضامندی کی شق کو ہم پر لاگو ہونے دیں۔ اگر ۷۰ فیصد باشندے کان کے لیے ہاں کہتے ہیں، تو ہم بے گھر ہونے کے لیے تیار ہیں۔‘‘