پرہلاد ڈھوکے اپنی گایوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ایسا کرنے کے لیے، انھیں اپنے تین ایکڑ میں لگے امرود کے باغ کو مُرجھانے کے لیے چھوڑ دینا ہوگا۔
’’یہ ایک لین دین ہے،‘‘ اپنے ۷ سے ۸ فٹ اونچے امرود کے پودوں کی قطاروں کے سامنے کھڑے اور آنکھوں میں آنسو لیے، ۴۴ سالہ پرہلاد کہتے ہیں۔ ’’میں نے اپنی بچت، سونا... سب کچھ خرچ کر دیا ہے۔ لیکن اب میں اپنے پودوں کو بچانے کے لیے روزانہ مزید پانی نہیں خرید سکتا۔ میں نے اپنی گایوں کو بچانے کا فیصلہ کیا۔ یہ ایک مشکل متبادل ہے۔‘‘
گایوں کو فروخت کر دینے کے بعد دوبارہ خریدنا مشکل ہوتا ہے۔ اپریل کے آغاز میں حکومتِ مہاراشٹر کے ذریعے اٹھائے گئے راحت رسانی کے اقدام کے تحت، بیڈ ضلع میں ان کے گاؤں، وڈگاؤں ڈھوک کے ٹھیک باہر ایک مویشی کیمپ لگایا گیا۔ پرہلاد نے اپنی ۱۲ گائیں اس کیمپ میں بھیج دیں، جن میں دو گیر گائیں بھی شامل تھیں، ان میں سے ہر ایک کو انھوں نے ۱ لاکھ روپے میں مقامی بازار سے خریدا تھا۔ لیکن پودوں کو چھوڑنے کا مطلب ناقابل تلافی نقصان بھی ہے۔
’’میرے سب سے بڑے بھائی چار سال پہلے لکھنؤ گئے تھے،‘‘ وہ بتاتے ہیں، ’’وہاں سے وہ امرود کے پودے لے کر آئے۔‘‘ پرہلاد اور ان کی فیملی کو اس کا باغ تیار کرنے میں چار سال لگ گئے۔ لیکن خشک سالی سے متاثر مراٹھواڑہ علاقے میں برسوں تک لگاتار قحط اور پانی کے بڑھتے بحران کے بعد ۲۰۱۸ کا خراب مانسون ایک ایسا چیلنج تھا، جس سے وہ نمٹ نہیں سکے۔
یوں تو ریاست کی کچھ تحصیلیں قحط اور پانی کے بحران کا سامنا ہر سال کرتی ہیں، لیکن مراٹھواڑہ کے اس پورے علاقے میں پانی کا شدید بحران ۲۰۱۲-۱۳ کے زرعی موسم میں شروع ہوا (۲۰۱۲ کا مانسون خراب رہنے کے سبب ۲۰۱۳ کی گرمیوں میں پانی کی کمی ہونے لگی)، جو ۲۰۱۴-۱۵ اور اس کے بعد اب ۲۰۱۸-۱۹ میں بھی بنی ہوئی ہے۔ ویسے تو گرمی کا ہر موسم پانی کا بحران لے کر آتا ہے، لیکن ۲۰۱۲ سے مراٹھواڑہ نے بڑھتے موسم سے متعلق قحط (مانسون کی ناکامی)، زرعی قحط (خریف اور ربیع فصلوں کی ناکامی)، اور ہائڈرولوجیکل قحط (زیر زمین پانی کی کمی) کو دیکھا ہے۔
وڈگاؤں ڈھوک جیورائی تحصیل میں ہے، یہ اُن ۱۵۱ تحصیلوں میں سے ایک ہے جنہیں حکومتِ مہاراشٹر نے اکتوبر ۲۰۱۸ میں خشک زدہ قرار دیا تھا۔ ہندوستانی محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق، جون سے ستمبر ۲۰۱۸ کے درمیان جیورائی میں ۵۰ فیصد سے کم بارش درج کی گئی – صرف ۲۸۸ ملی میٹر، جو اُس مدت میں ۶۲۸ ملی میٹر کے طویل مدتی اوسط کے مقابلے بہت ہی کم ہے۔ ستمبر میں، جو کہ فصلوں کے لیے ایک اہم مہینہ ہوتا ہے، بارش ۷۰ ملی میٹر کے اوسط کے مقابلے صرف ۱۴ء۲ ملی میٹر ہوئی۔









