’’ہم نے پچھلی بار کپل پاٹل کو ووٹ دیا تھا۔ لیکن کیا ہوا؟ گاؤں میں ابھی بھی کوئی پرائمری ہیلتھ سینٹر نہیں ہے۔ اور یہ سڑکیں... وہ جیتنے کے بعد ہمارے پاس واپس نہیں آئے۔ انھیں دوبارہ ووٹ کیوں دیں؟‘‘ ماروتی وِشے سوال کرتی ہیں۔
دوپہر کے وقت درجۂ حرارت ۳۸ ڈگری سیلسیس ہے اور چلچلاتی دھوپ میں ٹیمبھرے گاؤں کی سڑکیں تقریباً سُنسان ہیں۔ ۷۰ سالہ وِشے کے پکّے گھر میں چھ مرد اور تین عورتیں جمع ہوئی ہیں۔ وہ سامنے کے کمرے میں دری اور پلاسٹک کی کرسیوں پر بیٹھے ہیں، جہاں ان کے پانچ ایکڑ کھیت سے چاول کے بورے ایک کونے میں رکھے ہوئے ہیں۔ اس گروپ کا ہر شخص کسان ہے، ہر ایک فیملی کے پاس دو سے پانچ ایکڑ کھیت ہیں جس میں وہ دھان اور موسمی سبزیاں اُگاتے ہیں۔ ’’ہم سبھی کو بیٹھ کر یہ غور کرنا چاہیے کہ اس بار ہمیں کسے ووٹ کرنا ہے،‘‘ ۶۰ سالہ رگھوناتھ بھوئیر کہتے ہیں۔
۵۲ سالہ مہادور بھوئیر کو یقین نہیں ہے کہ بحث سے کچھ حاصل ہوگا۔ ’’ہم نے بی جے پی کو پانچ سال دیے، لیکن انھوں نے ان سالوں کو برباد کر دیا۔ اب کانگریس کو پانچ سال اور لینے دیجئے اور وقت بھی برباد کرنے دیجئے۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ سبھی ایک جیسے ہیں۔‘‘











