وجے ماروتّر کو اپنے والد کے ساتھ ہوئی ان کی آخری بات چیت سے زیادہ کسی چیز کا افسوس نہیں ہے۔
وہ گرمی کی ایک مرطوب شام تھی۔ یَوتمال ضلع میں واقع ان کے گاؤں میں آہستہ آہستہ شام ڈھل رہی تھی۔ انہوں نے اپنی نیم روشن جھونپڑی میں اپنے والد اور خود کے لیے کھانے کی دو پلیٹیں لگائیں۔ ان میں سلیقے سے مڑی ہوئی دو دو روٹیاں، دال اور چاول کا ایک پیالہ رکھا تھا۔
لیکن ان کے والد گھنشیام نے ایک نظر پلیٹ کی طرف دیکھا اور انہیں غصہ آ گیا، ’’کٹے ہوئے پیاز کہاں ہیں؟‘‘ ۲۵ سالہ وجے کے مطابق ان کا رد عمل غیرمناسب تھا، لیکن اس وقت ان کی ویسی ہی حالت تھی۔ مہاراشٹر کے اکپوری گاؤں میں اپنی ایک کمرے کی جھونپڑی کے باہر کھلی جگہ پر پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھے ہوئے وہ کہتے ہیں، ’’وہ کچھ دنوں سے چڑچڑے ہو گئے تھے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر انہیں غصہ آ جاتا تھا۔‘‘
وجے باورچی خانے میں واپس گئے اور اپنے والد کے لیے پیاز کاٹ کر لے آئے۔ لیکن رات کے کھانے کے بعد دونوں کے درمیان ناخوشگوار بحث چھڑ گئی۔ وجے اس رات بدمزگی کے ساتھ سو گئے۔ اس امید میں کہ اگلی صبح اپنے والد کے ساتھ صلح صفائی کر لیں گے۔
لیکن گھنشیام کے لیے وہ صبح نہیں آئی۔
۵۹ سالہ کسان نے اس رات حشرہ کش دوا پی لی۔ وجے کے بیدار ہونے سے پہلے ہی وہ مر چکے تھے۔ یہ اپریل ۲۰۲۲ کا واقعہ ہے۔









