ہر سال جولائی میں مہاراشٹر بھر سے لاکھوں وارکری، دیہو اور آلندی سے تقریباً ۲۴۰ کلومیٹر کا پیدل سفر کرکے سولاپور ضلع کے پنڈھرپور میں اپنے پیارے بھگوان وٹھوبا اور رکھومائی سے ملنے جاتے ہیں۔ مانا جاتا ہے کہ یہ سفر صدیوں سے مویشی پرور خانہ بدوشوں کے ذریعے طے کیے گئے راستے سے ہوکر ۸۰۰ برسوں سے جاری ہے۔
دیہو سنت (سادھو) تُکا رام کی جائے پیدائش ہے، اور آلندی وہ جگہ ہے جہاں سنت گیانیشور نے سمادھی لی تھی۔ دونوں برابری پر مبنی اور ذات پات سے پاک بھکتی تحریک (وارکری مسلک) کے قابل احترام سادھو ہیں۔ ریاست کے مختلف حصوں سے تیرتھ یاتری دِنڈی بناتے ہیں اور آلندی یا دیہو پہنچنے کے بعد اس دو ہفتے کی تیرتھ یاترا میں شامل ہوتے ہیں۔ ہر ایک دِنڈی ایک گاؤں کے مردوں اور عورتوں کی چھوٹی ٹکڑی ہوتی ہے جو ایک ساتھ سفر کرتے ہیں۔ کچھ دنڈیاں پونہ میں آکر بنتی ہیں یا وہاں سے شروع ہوتی ہیں۔ دیگر اپنے گاؤوں سے نکل کر آشاڑھی ایکادشی پر – جسے ایک مبارک دن مانا جاتا ہے – سیدھے پنڈھرپور پہنچتی ہیں۔



