ازلان احمد، بدرنگی دیواروں والے دو منزلہ مکان کی اوپری منزل پر، اپنے کمرے کے ایک کونے میں فون کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ ان کے ہاتھ کانپ رہے ہیں اور وہ کشمیری زبان میں اپنی ماں کو پکارتے ہیں، ’’مے گو خبر کیا [پتہ نہیں مجھے کیا ہو رہا ہے]۔‘‘ وہ سر درد اور بدن درد کی شکایت کرتے ہیں۔ ان کی والدہ، سکینہ بیگم، ایک گلاس پانی لانے کے لیے باورچی خانہ کی طرف دوڑتی ہیں۔ ازلان کے چیخنے کی آواز سن کر، ان کے والد بشیر احمد کمرے میں آتے ہیں اور انہیں دلاسہ دینے کی کوشش کرتے ہیں، کہتے ہیں کہ ڈاکٹروں نے انہیں بتایا تھا کہ نشہ سے چھٹکارے کی علامت ایسی ہی ہوگی۔
سکینہ بیگم اور بشیر احمد (افشائے راز کو یقینی بنانے کے لیے سبھی نام بدل دیے گئے ہیں) نے وقت گزرنے کے ساتھ ۲۰ سالہ ازلان کو کمرے میں تالا لگا کر محفوظ رکھنا شروع کر دیا ہے، اور ان کے گھر کی ۱۰ کھڑکیاں بند رکھی جاتی ہیں۔ یہ کمرہ باورچی خانہ کے قریب ہے، جہاں سے ان کی ماں ازلان پر ہمیشہ نظر بنائے رکھ سکتی ہیں۔ ’’اپنے بیٹے کو بند رکھنا تکلیف دہ ہے، لیکن میرے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے،‘‘ ۵۲ سالہ سکینہ بیگم کہتی ہیں، اس خوف سے کہ ان کا بیٹا اگر گھر سے باہر نکلا، تو وہ پھر سے منشیات کا استعمال کرنے لگے گا۔
ازلان، جو کہ ایک بے روزگار ہے اور جس نے اسکول کی پڑھائی بیچ میں ہی چھوڑ دی تھی، کو ہیروئن کی لت لگے ہوئے دو سال ہو چکے ہیں۔ اس نے چار سال پہلے جوتے کے پالش سے نشے کی شروعات کی، پھر افیم والی نشہ آور شے لینے لگا اور آخر میں اسے ہیروئن کی لت لگ گئی۔
نشے کی لت ازلان کی فیملی کے لیے ایک بڑا جھٹکا ہے، جو جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع کے چُرسو علاقے میں رہتے ہیں۔ ’’ہمارے پاس جتنی بھی قیمتی چیزیں تھیں، منشیات خریدنے کے لیے وہ ان سبھی کو فروخت کر چکا ہے – اپنی ماں کی کان کی بالیوں سے لے کر اپنی بہن کی انگوٹھی تک،‘‘ دھان کی کھیتی کرنے والے ۵۵ سالہ کسان، بشیر احمد کہتے ہیں۔ انہیں اپنے بیٹے کی نشے کی لت کے بارے میں بہت بعد میں جاکر تب پتہ چلا، جب ازلان نے ان کا اے ٹی ایم کارڈ چُرا لیا اور ان کے کھاتے سے ۵۰ ہزار روپے نکال لیے۔ ’’جو مہمان ہمارے گھر میں قیام کرتے تھے، وہ بھی شکایت کرتے کہ ان کا پیسہ یہاں چوری ہو رہا ہے،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔
لیکن مسئلہ کی سنگینی کا اندازہ تب ہوا، جب کچھ ماہ قبل بشیر نے دیکھا کہ ان کا بیٹا ہیروئن خریدنے کے لیے اپنی ۳۲ سالہ بہن کی انگلی سے انگوٹھی نکال رہا ہے۔ ’’اگلے ہی دن میں اسے علاج کے لیے سرینگر کے نشے سے چھٹکارہ دلانے والے مرکز میں لے گیا۔ میں اپنے بیٹے پر آنکھ موند کر بھروسہ کرتا تھا اور کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن لوگ اسے نشہ خور کہیں گے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔




