’’آج آپ دکان سے ہر چیز خرید سکتے ہیں۔ لیکن ہماری برادریوں کے ذریعے مذہبی رسومات میں استعمال کیے جانے والے مٹی کے برتن کوٹا قبیلہ کی صرف ہم عورتوں کے ذریعہ ہی بنائے جاتے ہیں،‘‘ سوگی رادھا کرشنن کہتی ہیں۔ وہ ۶۳ سال کی ہیں، اور آدیواسی بستی، تروچی گڈی، جسے وہ ’تِرچ کاڈ‘ کہہ رہی ہیں، کی متعدد خواتین کوزہ گروں میں سے ایک ہیں – کوٹا لوگ اپنی بستیوں کو تھوڑا الگ نام سے پکارتے ہیں۔ یہ بستی تمل ناڈو کے نیل گری ضلع میں کوٹا گری قصبہ کے قریب، اُدھگ منڈلم تعلق میں ہے۔
گھر میں، سوگی عام طور سے کوٹا خواتین کے روایتی لباس میں ہوتی ہیں – یہ ایک سفید چادر ہوتی ہے جسے کوٹا زبان میں ’دوپٹ‘ کہتے ہیں اور اسے چوغہ کی طرح باندھا جاتا ہے، اور ایک سفید شال جسے ’وراڈ‘ کہتے ہیں۔ کوٹا گری اور دیگر قصبوں میں کام کرتے وقت، تروچی گڈی کی خواتین اور مرد ہمیشہ ان روایتی لباسوں کو نہیں پہنتے جو وہ اپنی بستی میں پہنتے ہیں۔ سوگی کا تیل لگا بال افقی طور سے جوڑے کی شکل میں لٹکا ہوا ہے، بال باندھنے کا یہ طریقہ ان کے قبیلہ کی عورتوں کے لیے مخصوص ہے۔ وہ اپنے گھر سے سٹے مٹی کے برتنوں کے چھوٹے سے کمرہ میں ہمارا استقبال کرتی ہیں۔
’’برتن کیسے بنایا جاتا ہے، یہ ’سکھانے‘ کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ میں نے اپنی دادی کے ہاتھوں کو دیکھا کہ وہ کیسے گھوم رہے ہیں۔ سلنڈر نما برتن کو دائرہ کار بنانے کے لیے باہری سطح پر گھنٹوں لکڑی کے تھاپ سے ہموار کرنا پڑتا ہے، جب کہ ساتھ ہی اندر سے ایک گول پتھر کی مدد سے لگاتار رگڑنا پڑتا ہے۔ اس سے مساماتی پن بھی کم ہوتا ہے، پتھر اور تھاپ کو ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ چلنا چاہیے، تاکہ برتن میں دراڑ نہ پڑے۔ اس قسم کے برتن میں سب سے ذائقہ دار چاول پکتا ہے۔ اور چھوٹے منھ والے برتن کو ہم سامبھر بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔ یہ بہت مزیدار ہے۔ آپ کو بھی چکھنا چاہیے۔‘‘









