انہوں نے ہماری غیر رسمی آمد پر کوئی اعتراض نہیں جتایا، بلکہ کافی خوش ہوئے اور اپنے کام کے بارے میں بتانے کے لیے ایک صاف جگہ پر بیٹھ گئے۔ ایک پیلے رنگ کی بوری میں نارنگی پلاسٹک کے اکارڈِین فولڈر میں کئی درجن اخباروں کی کٹنگ، تصویریں اور ان کی مصوری کے نمونے تھے۔ وہ اس پارسل کو اپنے ساتھ ہر جگہ لے کر جاتے ہیں، شاید اسی قسم کی ناگہانی ملاقات کی خواہش لیے۔
’’ایک بار ضلع کلکٹر نے میری کچھ مصوری میں دلچسپی دکھائی اور [انہیں] خریدا،‘‘ ۴۱ سالہ کرشنا، ہمیں بڈاگا زبان میں بتاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ ان کے کریئر کا سب سے قابل فخر لمحہ تھا۔
کرشنا آدیواسی مصوروں کی ایک لمبی قطار کے آخری چند میں سے ایک ہیں۔ کئی کرومبا مانتے ہیں کہ ایلوتھوپارئی کے چٹانوں پر کی گئی نادر مصوری انہی کے اجداد نے کی ہے۔ یہ ویلرکومبئی سے تین کلومیٹر دور واقع آثارِ قدیمہ کا ایک مقام ہے، جو ۳۰۰۰ سال پرانا بتایا جاتا ہے۔ ’’اس سے پہلے، ہم ایلوتھوپارئی کے پاس رہتے تھے، جنگل کے اندرونی علاقوں میں،‘‘ کرشنا کہتے ہیں۔ ’’آپ ان تصویروں کو صرف کرومبا [کے درمیان] میں ہی دیکھ سکتے ہیں۔‘‘
کرشنا کے دادا بھی مشہور مصور تھے، جنہوں نے کئی مقامی مندروں کی آرائش میں مدد کی، اور کرشنا نے پانچ سال کی عمر میں انہی سے سیکھنا شروع کیا۔ آج، وہ اپنے دادا کی وراثت کو آگے بڑھا رہے ہیں، کچھ تبدیلیوں کے ساتھ: ان کے اجداد جہاں کھڑی چٹانوں پر چھڑی سے مصوری کرتے تھے، وہیں کرشنا کینوس اور ہاتھ سے بنے کاغذ پر برش کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ، حالانکہ، آرگینک، گھر میں بنے رنگ کا استعمال پابندی سے کرتے ہیں، جو کہ بقول ہمارے ترجمہ نگار، اپنے کیمیاوی رنگوں کے مقابلے کہیں زیادہ چمکدار ہوتے ہیں اور لمبے وقت تک چلتے ہیں۔