ایسا پہلی بار ہے کہ منورا بیوہ کو خالی بیٹھنا پڑا ہے۔ فیکٹری بند پڑی ہے، منشی ۲۰ سے زیادہ دنوں سے غائب ہے، اور ان کے پاس اب اپنی فیملی کا پیٹ بھرنے کے لیے پیسے نہیں بچے ہیں۔ منورا کہتی ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ اس ملک کے کچھ حصے میں کچھ لوگ کسی ’سیاہ چیز‘ سے لڑ رہے ہیں اور وہی ان کی خستہ حالی کا سبب ہے۔
۴۵ سالہ منورا گزشتہ ۱۷ برسوں سے بیڑیاں باندھنے کا کام کرکے اپنی فیملی کے لیے روزی روٹی کما رہی ہیں – ۱۰۰۰ بیڑیاں باندھنے پر انہیں ۱۲۶ روپے ملتے تھے۔ انہوں نے یہ کام اپنے شوہر کے اس دنیا سے گزرنے کے بعد شروع کیا تھا؛ اس بے زمین جوڑے کے دو بیٹے تھے، اور چھوٹا بیٹا اس وقت صرف چھ سال کا تھا۔ وہ جب تک جوان تھیں، ایک دن میں ۲۰۰۰ بیڑیاں باندھ لیتی تھیں؛ اب صرف ۵۰۰ بیڑیاں باندھ پاتی ہیں۔
ریاستی حکومت کے لیبر محکمہ کے مطابق، مغربی بنگال میں گھر پر کام کرنے والے بیڑی مزدوروں میں ۷۰ فیصد سے زیادہ خواتین ہیں۔ مغربی بنگال کے مرشد آباد ضلع کے جنگی پور سب ڈویژن کے بیڑی کارخانے کے منشی (ٹھیکہ دار، جو کارکنوں کے گھروں میں خام مال تقسیم کرتا ہے اور تیار مال کو اکٹھا کرتا ہے)، منیر الحق کہتے ہیں، ’’اگر یہاں کوئی جوان عورت بیڑی بنانے کی ماہر نہ ہو، تو اس کے لیے اچھا شوہر ملنا بھی مشکل ہے۔‘‘






