پانڈلا لکشمن راؤ ۱۸ سال کی عمر میں ۱۲ویں کلاس پاس کرنے کے بعد اپنی آگے کی پڑھائی جاری نہیں رکھ سکے۔ ’’(اسوراؤپیٹا قصبہ کے ڈگری کالج میں داخلہ کے لیے) مجھ سے ذات کا سرٹیفکیٹ جمع کرنے کے لیے کہا گیا۔ چونکہ میرے پاس سرٹیفکیٹ نہیں تھا، اس لیے مجھے پڑھائی چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔
لکشمن، جو اب ۲۳ سال کے ہو چکے ہیں، نایکولاگوڈیم بستی میں زرعی مزدور کے طور پر تب کام کرتے ہیں، جب ان کی فیملی کے ایک ایکڑ پوڈو پلاٹ (کھیتی کے لیے استعمال کی جانے والے جنگل کی زمین) پر کوئی کام نہیں ہوتا۔
آندھرا پردیش کے مغربی گوداوری ضلع کے ٹی نرساپورم اور چنٹلاپوڈی منڈلوں میں پھیلے تقریباً ۳۰ گاؤوں میں رہنے والے ان کے جیسے نایک پوڈ قبیلہ کے بہت سے نوجوانوں کی یہی کہانی ہے۔ کوسینی سیٹھا اور کوسینی ناگ منی، ان دونوں کی عمر ۱۸ سال ہے، انھیں بھی ۵ویں کلاس کے بعد اسکول اس لیے چھوڑنا پڑا، کیوں کہ انھیں اپنی بستی سے پانچ کلومیٹر دور واقع میری گوڈیم کے قبائلی رہائشی اسکول میں شیڈول ٹرائب (ایس ٹی) سرٹیفکیٹ جمع کرنے کو کہا گیا۔ ناگ منی بتاتی ہیں، ’’چونکہ ہم آگے نہیں پڑھ سکتے تھے، اس لیے ہماری جلدی شادی کر دی گئی، اور ہم اب یا تو پوڈو زمین پر کام کرتے ہیں یا پھر دوسروں کے کھیتوں پر زرعی مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں۔‘‘
تقریباً ۱۰۰ نایک پوڈ کنبے نایکولاگوڈیم بستی (قبیلہ کے نام سے موسوم) میں رہتے ہیں، یہ لوگ پاس کے جنگل میں واقع کھیتوں میں دھان، راجما اور دیگر فصلوں کی کھیتی کرتے ہیں۔ اپنی گزر بسر کے لیے وہ جنگل پر منحصر ہیں، وہاں سے شہد جمع کرتے ہیں یا (کھانے کے لیے) اسکنک کا شکار کرتے ہیں، جسے وہ ٹی نرساپورم قصبہ میں لگنے والے ہفتہ وار بازار میں بیچتے ہیں۔






