خوش قسمتی سے، پتل انصاف کے لیے اپنی لڑائی میں اکیلی نہیں ہیں۔ وہ دباؤ کے آگے جھکیں نہیں۔ جس آئی ٹی پیشہ ور کے گھر پر پتل گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتی ہیں، اس نے پولس تھانے میں ایف آئی آر درج کرانے میں ان کی مدد کی۔ غیر سرکاری تنظیموں اور اسی محلہ میں رہنے والی ایک دیگر رشتہ دار کے آجر نے بھی ان کی مدد کی۔
’’پوسٹ مارٹم رپورٹ نے سچائی ثابت کر دی – موت کا سبب تھا زہریلی گیس سے دَم گھُٹنا،‘‘ پتل کی رشتہ دار دیپالی دلوئی کہتی ہیں۔ ’’کمپنی نے رپورٹ میں ہیر پھیر کرنے کی کوشش کی، یہ کہتے ہوئے کہ موت بجلی کا جھٹکا لگنے سے ہوئی ہے۔ لیکن ہر کوئی سچائی جانتا ہے۔ جب کوٹھیوں (ہاؤسنگ کالونیوں) کے صاحبوں نے کمپنی کے خلاف معاملہ درج کرنے کی دھمکی دی، تب انھوں نے رپورٹ کو صحیح مانا۔‘‘ نظام ہمارے لیے مایوسی کا سبب ہے، دیپالی کہتی ہیں۔ ’’اگر دہلی کی یہ حالت ہے، تو کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ دور دراز کے گاؤوں کی حالت کیا ہوگی؟‘‘
مہینوں تک چکر لگانے کے بعد، چندن کے آجروں نے پتل کو ۱۰ لاکھ روپے دیے (سپریم کورٹ کے ۲۷ مارچ، ۲۰۱۴ کے ایک فیصلہ میں کہا گیا تھا کہ ۱۹۹۳ سے سیور/سیپٹک ٹینک کی صفائی کے دوران مرنے والے سبھی لوگوں کو معاوضہ کے طور پر ۱۰ لاکھ روپے دیے جائیں) اور پتل کو نوکری دینے کی یقین دہانی کرائی۔
بدقسمتی سے، انھوں نے پتل کو بھی ہاؤس کیپنگ کی وہی نوکری پیش کی جس نے ان کے شوہر کی جان لے لی تھی۔
’’آخرکار، ذات معنی رکھتی ہے۔ میں اپنے شوہر کو واپس نہیں پا سکتی۔ میں صرف اتنا چاہتی ہوں کہ کسی اور کو یہ پریشانی نہ جھیلنی پڑے۔ نالے میں کسی کی موت نہیں ہونی چاہیے،‘‘ پتل کہتی ہیں۔
پُتُل اور چندن باگڑی ہیں، جو کہ ایک درج فہرست ذات ہے۔ وہ مغربی بنگال کے جنوبی ۲۴ پرگنہ ضلع کے، سندربن کے کاندک پور گاؤں سے دہلی آئے تھے۔ گاؤں میں کوئی کام نہیں تھا۔ مال میں، چندن ۹۸۰۰ روپے کمایا کرتے تھے، اور وہ ۳۵۰۰ روپے اپنے کمرے کا کرایہ دیتے تھے۔
اب اُداس اور پاس کے بنگلے میں ایک باورچی کے طور پر اپنے کام پر لوٹنے میں ناقابل، پتل جانتی ہیں کہ وہ سندر بن واپس نہیں لوٹ سکتیں۔ واپس جانے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے۔ ان کی ساس، دیور اور ان کی فیملی مشکل سے اپنی دو ڈھائی بیگھہ زمین (موٹے طور پر۶ء۰ ایکڑ) پر گزارہ کرتی ہے۔
حالانکہ وہ اس خیال سے نفرت کرتی ہیں، لیکن پُتُل جانتی ہیں کہ انھیں صفائی کے کام کی پیشکش کو قبول کرنا ہی پڑے گا۔ ’’یہ اب ایک مجبوری ہے۔ ہر کوئی کہہ رہا ہے کہ اس کام سے میں اپنے بچے کی بہتر اور محفوظ طریقے سے پرورش کر سکتی ہوں۔‘‘
امت، پُتُل کا نو سالہ بیٹا، اسٹرابیری آئس کریم کے ساتھ اسکول سے گھر لوٹتا ہے۔ وہ وسنت پبلک اسکول میں اَپر کے جی میں ہے۔ اسے یاد ہے کہ اس کے والد پژا اور برگر کے لیے انھیں مال لے جایا کرتے تھے۔ اور پھر، اس نومبر کے دن، اس نے اپنے والد کو گھر پر لاتے ہوئے دیکھا، جب سر سے ناف تک ان کے جسم پر ٹانکے لگے ہوئے تھے۔