’’ان صاف سفید پھلیوں کو دیکھ رہے ہیں؟‘‘ اشوک گٹکل انہیں اپنی ہتھیلی پر رکھ کر پوچھتے ہیں۔ ’’ان کی بازار میں قیمت ۳۰۰۰ سے ۳۵۰۰ روپے فی کوئنٹل ہے۔ لیکن اس بار زیادہ تر پھلیوں پر کالے دھبے اور پھپھوند ہیں،‘‘ دوسری ہتھیلی پر خراب سویابین کو رکھے ہوئے، وہ کہتے ہیں۔ ’’ایسی پھلیوں کا کوئی بازار نہیں ہے۔ مجھے اس سے کچھ حاصل نہیں ہونے جا رہا ہے۔‘‘
گٹکل اُس وقت ایک درانتی سے اپنی خراب ہو چکی فصل کو صاف کر رہے تھے جب ۱۱ نومبر کو میں نے رتھ گلّی گاؤں میں ان کے کھیت کا دورہ کیا تھا۔ وہ اکیلے کام کر رہے تھے۔ ’’میں [زرعی مزدوروں کو] مزدوری کی ادائیگی کیسے کر سکتا ہوں؟‘‘ اپنی پیشانی اور ناک سے ٹپک رہے پیسنے کو پونچھتے ہوئے، انہوں نے سوال کیا۔
اکتوبر میں تقریباً دو ہفتے تک گٹکل کی تین ایکڑ زمین پر فصلیں پوری طرح سے پانی میں ڈوب گئی تھیں۔ پچھلے مہینے ہوئی بھاری بارش سے ان کی تقریباً ۹۰ فیصد سویابین کی فصل سڑ گئی۔ ناسک ضلع میں – جہاں دنڈوری تعلقہ میں ان کا گاؤں واقع ہے – ۱ اکتوبر سے ۱۲ نومبر کے درمیان تقریباً ۱۷۳ء۲ ملی میٹر بارش ہوئی تھی۔ اس مدت کے دوران عام بارش تقریباً ۷۱ ملی میٹر ہے (ہندوستانی محکمہ موسمیات کے مطابق)۔
مانسون کی ابتدا میں، جون میں رتھ گلّی میں ہونے والی کم بارش نے موسم کے آخر میں، ستمبر میں زور پکڑ لیا تھا، جس سے ۵۱ سالہ اشوک کو اچھی پیداوار کی امید تھی۔ لیکن اکتوبر کی غیر متوقع بارش نے انہیں بری طرح متاثر کیا ہے۔ اکتوبر کے آخر میں، انہوں نے اپنی فصل کے نقصان کے بارے میں تلاتھی کے دفتر کو مطلع کیا، لیکن دو ہفتے بعد بھی کوئی معائنہ کرنے نہیں پہنچا۔










