’’لڑکی ہوئی ہے،‘‘ ڈاکٹر نے کہا۔
یہ آشا کا چوتھا بچہ ہوگا – لیکن یقیناً آخری نہیں۔ وہ گائناکولوجسٹ (خواتین کے امراض کی ماہر) کو اپنی ماں کانتا بین کو تسلی دیتے ہوئے سن سکتی تھیں: ’’ماں، آپ روئیے مت۔ اگر ضرورت پڑی تو میں آٹھ اور سیزیریئن کروں گی۔ لیکن جب تک اسے کوئی بیٹا نہیں ہو جاتا میں یہاں ہوں۔ وہ میری ذمہ داری ہے۔‘‘
اس سے پہلے، آشا کے تین بچوں میں سے سبھی لڑکیاں تھیں، تینوں کی پیدائش سیزیریئن سرجری کے ذریعہ ہوئی تھی۔ اور اب وہ ڈاکٹر کی زبانی احمد آباد شہر کے منی نگر علاقہ میں پرائیویٹ کلینک کے اندر حمل میں بچہ کی جنس کا پتا لگانے کی جانچ کا فیصلہ سن رہی تھیں۔ (ایسے ٹیسٹ غیر قانونی ہیں، لیکن بڑے پیمانے پر اب بھی دستیاب ہے۔) اتنے سالوں میں وہ چوتھی بار حاملہ ہوئی تھیں۔ وہ یہاں ۴۰ کلومیٹر دور، خانپار گاؤں سے کانتا بین کے ساتھ آئی تھیں۔ ماں اور بیٹی دونوں غمگین تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ آشا کے سسر اسے اسقاط حمل کی اجازت نہیں دیں گے۔ ’’یہ ہمارے عقیدہ کے خلاف ہے،‘‘ کانتا بین نے کہا۔
دوسرے لفظوں میں: یہ آشا کا آخری حمل نہیں ہوگا۔
آشا اور کانتا بین کا تعلق گلہ بانوں کی بھارواڑ برادری سے ہے، جو عام طور سے بھیڑ بکریاں چراتے ہیں۔ تاہم، احمد آباد ضلع کے ڈھولکا تعلقہ میں – جہاں خانپار واقع ہے، ان کا گاؤں جس کے ۲۷۱ گھروں میں ۱۵۰۰ سے کم لوگ رہتے ہیں (مردم شماری ۲۰۱۱) – زیادہ تر لوگ چھوٹی تعداد میں گائے اور بھینس پالتے ہیں۔ روایتی معاشرتی درجہ بندی میں، اس برادری کو گلہ بان ذاتوں میں سب سے نچلی سطح پر دیکھا جاتا ہے اور گجرات میں یہ درج فہرست قبیلہ کے طور پر درج ہے۔







