’’وہ نابینا ہے، پھر بھی آپ کی طرف دیکھ رہا ہے،‘‘ مدن لال مُرمو کہتے ہیں، جب کہ سرخ اور چمکدار اس کی دو گول آنکھیں، مجھے مسحور کر رہی ہیں – یہاں کے ارد گرد کے ماحول میں صرف انہی آنکھوں کا رنگ ہی گہرا ہے، باقی چیزیں گرد و غبار میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ میں اس کے قریب جاکر جلدی سے اس کی تصویر کھینچنا چاہتی ہوں، لیکن وہ دور نکل جاتا ہے۔ میں دوبارہ پاس جاتی ہوں اور اس بار تصویر کھینچنے میں کامیاب رہتی ہوں۔
مدن لال منھ سے کچھ آواز نکالتے ہیں جو ان کے لیے ایک اشارہ ہے، اور وہ اس کا جواب دیتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ وہ اپنے دو پالتو اُلّو سے، ہنستے ہوئے، میرا تعارف کراتے ہیں، سدّھو مُرمو اور کانہو مُرمو۔ ’’یہ فیملی کا حصہ ہی،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔







