ٹرین جیسے ہی دادر کے پاس پہنچتی ہے، تلسی بھگت پرانی ساڑیوں میں لپٹے پتّوں کے دو بڑے گٹھروں کے ساتھ تیار ہو جاتی ہیں – ٹرین پوری طرح رکنے بھی نہیں پاتی کہ وہ تقریباً ۳۵-۳۵ کلو کے گٹھروں کو باری باری سے پلیٹ فارم پر پھینکتی ہیں۔ ’’اگر ہم ٹرین کے رکنے سے پہلے بوجھا (وزن) نہیں پھیکیں گے، تو ہمارے لیے اتنے وزن کے ساتھ نیچے اترنا ناممکن ہو جائے گا، کیوں کہ بہت سے لوگ ٹرین میں چڑھنے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔
ٹرین سے اتر کر تلسی واپس اسی جگہ جاتی ہیں، جہاں انہوں نے گٹھروں کو پلیٹ فارم پر پھینکا ہوتا ہے۔ ایک گٹھر کو اپنے سر پر اٹھائے وہ بھاری مجمع کے درمیان سے گزرتے ہوئے اسٹیشن کے ٹھیک کباہر، سڑک پر لگے پھول بازار کی طرف چل دیتی ہیں۔ وہاں پہنچ کر وہ اپنی روز کی متعینہ جگہ پر گٹھر کو رکھ دیتی ہیں۔ پھر واپس پلیٹ فارم پر جاتی ہیں اور اپنے دوسرے گٹھر کو بھی پہلے کی ہی طرح سر پر رکھ کر لے آتی ہیں۔ ’’میں ایک بار میں اپنے سر پر صرف ایک ہی بوجھ اٹھاکر لے جا سکتی ہوں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ دونوں گٹھروں کو اسٹیشن سے پھولوں کے بازار تک لے جانے میں انہیں تقریباً ۳۰ منٹ لگتے ہیں۔
لیکن یہ تلسی کے کام کے دن کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے، جو لگاتار ۳۲ گھنٹوں تک چلتا ہے۔ ان پورے گھنٹوں کے دوران وہ تقریباً ۲۰۰ کلومیٹر کا سفر کرتی ہیں، جس میں کم از کم ۷۰ کلو کا وزن ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ اور ۳۲ گھنٹے لمبے اس کام کے ختم ہونے پر انہیں ۴۰۰ روپے ملتے ہیں۔









