’’آپ یہاں بہت جلدی آ گئی ہیں۔ اتوار کے روز، وہ (گاہک) شام ۴ بجے سے پہلے نہیں آتے ہیں۔ میں اس وقت یہاں اس لیے موجود ہوں، کیوں کہ میں ہارمونیم بجانا سیکھ رہی ہوں،‘‘ بیوٹی کہتی ہیں۔
اس جگہ کا نام چتربھُج استھان ہے، اور اس کی پہچان بہار کے مظفر پور ضلع کے مُسہری بلاک کے ایک بہت پرانے قحبہ خانے کے طور پر کی جاتی ہے۔ صبح میں ٹھیک ۱۰ بجے کے بعد، میں اور وہ ملے ہیں۔ ان کے گاہک شام کو ان سے ملنے آتے ہیں۔ اس کام کے دوران وہ ’بیوٹی‘ نام کا استعمال کرتی ہیں۔ بیوٹی ۱۹ سال کی سیکس ورکر (جسم فروش) ہیں، اور پچھلے پانچ سال سے یہ کام کر رہی ہیں۔ وہ تین مہینے کی حاملہ بھی ہیں۔
وہ اس حالت میں بھی کام کر رہی ہیں۔ وہ ہارمونیم بجانا بھی سیکھ رہی ہیں، کیوں کہ ’’امّی [ان کی ماں] کہتی ہے کہ موسیقی کا میرے بچے پر اچھا اثر پڑے گا۔‘‘
انگلیاں ہارمونیم پر راگ چھیڑ رہی ہیں۔ بیوٹی آگے کہتی ہیں، ’’یہ میرا دوسرا بچہ ہوگا۔ پہلے سے میرا دو سال کا ایک بیٹا ہے۔‘‘
جس کمرے میں ہم مل رہے ہیں اس کا تقریباً آدھا حصہ، زمین پر رکھے ایک بہت بڑے گدّے نے گھیر لیا ہے؛ جس کے پیچھے کی دیوار پر اوپر ۶ بائی ۴ فٹ کا شیشہ لگا ہوا ہے۔ اسی کمرے کو بیوٹی اپنے کام کے لیے بھی استعمال کرتی ہیں۔ کمرے کا سائز شاید ۱۵ بائی ۲۵ فٹ ہے۔ گدّے کو کُشن اور تکیہ سے سجایا گیا ہے، تاکہ گاہک آرام سے بیٹھ کر یا لیٹ کر لڑکیوں کو مجرا کرتے ہوئے دیکھ سکیں۔ مجرا رقص کی ایک شکل ہے، اور مانا جاتا ہے کہ ہندوستان میں نوآبادیاتی دور سے قبل شروع ہوا تھا۔ کہا یہ بھی جاتا ہے کہ چتُربھُج استھان بھی مغلیہ دور سے ہی موجود ہے۔ یہاں موجود سبھی لڑکیوں اور عورتوں کے لیے مجرا جاننا اور پرفارم کرنا ضروری ہے۔ بیوٹی کو بھی آتا ہے۔












