’’ہم اپنے گھوڑوں کو فیملی ممبر کی طرح مانتے ہیں۔ میں ان کا ڈاکٹر بن جاتا ہوں اور ضرورت پڑنے پر ممبئی سے ان کے لیے دوائیں خریدتا ہوں۔ جب وہ بیمار ہوتے ہیں، تو میں ان دواؤں کا انجیکشن ان مویشیوں کو لگا دیتا ہوں۔ میں انھیں نہلاتا ہوں اور صاف ستھرا رکھتا ہوں۔‘‘ منوج کسُنڈے اپنے گھوڑوں سے پیار کرتے ہیں، اور یہ ان چند لائسنس رکھنے والوں میں سے ایک ہیں جو سیاحوں کو گھوڑے سے سیر و تفریح کراکر روزی روٹی کماتے ہیں۔ گھوڑوں کے رکھوالے یا انھیں کنٹرول کرنے والے خود ان کے ساتھ پیدل چلتے ہیں، ماتھیران کے ڈھلانوں سے اوپر نیچے۔
دنیا کے کسُنڈے نظر نہ آنے والے لوگ ہیں، ہم ان کے بارے میں مشکل سے ہی کچھ جان پائے ہیں۔ شاید اس لیے کہ ہم اس بابت ان سے کچھ پوچھتے نہیں ہیں۔ ممبئی سے تقریباً ۹۰ کلومیٹر جنوب کی طرف مہاراشٹر کے رائے گڑھ ضلع میں واقع اس مشہور ہل اسٹیشن پر کل ۴۶۰ گھوڑے کام کر رہے ہیں۔ ان کے رکھوالے (جو سبھی مالک نہیں ہیں) ہمیں بتاتے ہیں کہ انھیں ’’روزانہ پہاڑیوں کے اوپر ۲۰ سے ۲۵ کلومیٹر چلنا‘‘ پڑتا ہے۔ آپ کو حیرانی ہوگی کہ بوجھ کس پر لدا ہوا ہے، گھوڑے پر یا اس کے رکھوالے پر، یا پھر دونوں پر۔






