’’مجھے ڈر ہے کہ [محکمہ جنگلات کے ذریعے] ساگوان کی ان سبھی شجرکاری کے سبب، ہمارے بچے صرف اسی کو دیکھ کر بڑے ہوں گے۔ ہمارے پاس جنگل، پیڑ پودے اور جانوروں کے بارے میں جو کچھ بھی علم ہے، وہ سب کھو دیں گے،‘‘ مدھیہ پردیش کے اُمر واڑہ گاؤں کی لیچی بائی اوئیکے کہتی ہیں۔
برطانوی نوآبادیاتی حکومت کے ذریعے ۱۸۶۴ میں قائم کیے گئے ہندوستان کے محکمہ جنگلات کے پاس ملک میں سب سے زیادہ زمینیں ہیں۔ ایک صدی سے بھی زیادہ وقت میں اس نے جو قوانین بنائے ہیں، اس میں تحفظ اور معاش (جیسے لکڑی کی فروخت)، آدیواسیوں اور جنگل کے مکینوں کے جرائم کا بہانہ بنا کر جنگلات اور زمینوں کی گھیرا بندی کر دی گئی ہے، اور ان قوانین کا استعمال انہیں ان کی آبائی زمین سے بے دخل کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔
اس ’’تاریخی نا انصافی‘‘ کو دور کرنے کے لیے ۲۰۰۶ کا حق جنگلات قانون جیسا اصلاحی قانون بنایا گیا تھا، جس کے تحت جنگل میں رہنے والی برادریوں (۱۵۰ ملین سے زیادہ ہندوستانیوں) کو زمین کا مالکانہ حق، اور اپنے جنگلات کو کنٹرول اور محفوظ کرنے کے اختیار دیے گئے۔ لیکن اس قسم کے التزامات کو بہت کم نافذ کیا جاتا ہے۔










