اب ۴۰ سال کی ہو چکیں لیلا بائی کے لیے، تین دہائیوں سے یہی ان کا روز کا معمول رہا ہے۔ ’’میرے والدین نے ۱۳ سال کی عمر میں ہی میری شادی کر دی تھی۔ میں پڑھنا چاہتی تھی، اس لیے میں نے اپنے شوہر اور سسرال والوں کے ساتھ رہتے ہوئے بھی اسکول کی پڑھائی جاری رکھی اور ۱۹۹۴ میں ۱۰ویں کلاس پاس کیا۔ لیکن مجھے آگے پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی، کیوں کہ میرے سسرال والوں کو لگا کہ شوہر سے زیادہ پڑھا لکھا ہونا میرے لیے اچھا نہیں رہے گا [وہ ۱۰ویں کلاس میں فیل ہو گئے تھے]۔ یہ میری تعلیم کا خاتمہ تھا۔‘‘
دو غیر سرکاری تنظیمیں، ۲۰۱۶ سے پھلودے گاؤں میں تعلیم بالغاں کلاسز چلا رہی ہیں۔ گھنٹوں کام کرنے کے باوجود، لیلا بائی ان غیر رسمی کلاسوں میں گاؤں کی خواتین کو پڑھاتی ہیں، جو اکثر کسی کے گھر میں منعقد کی جاتی ہیں۔ جب کچھ خواتین کلاس کے لیے گھریلو کام سے وقت نکالنے میں آناکانی کرتی ہیں، تو لیلا بائی ان سے بات کرنے کے لیے گھر گھر جاتی ہیں۔ لیلا بائی نے ۳۰ خواتین کو تھوڑا پڑھنا اور اپنے نام کا دستخط کرنا سکھایا ہے۔
اپنی دہائیوں کی کڑی محنت سے لیلا بائی اور ان کے شوہر نے اپنے بچوں کو تعلیم دلانے کی کوشش کی ہے۔ ان کی سب سے بڑی بیٹی، ۲۳ سالہ پرینکا کے پاس بی کام کی ڈگری ہے اور وہ سرکاری نوکری پانے کے لیے ریاستی سطح کے مقابلہ جاتی امتحانوں کی تیاری کر رہی ہے۔ حال ہی میں اس کی شادی ہوئی ہے اور اب وہ علی باغ میں رہتی ہے۔ پرمیلا (۲۰) کا انتخاب مہاراشٹر پولس فورس میں ایک کانسٹیبل کے طور پر ہو چکا ہے، لیکن ابھی تک اسے جوائن نہیں کرایا گیا ہے۔ اُرمیلا (۱۸)، پھلودے سے تقریباً ۵۰ کلومیٹر دور منچر گاؤں میں بی اے کی پڑھائی کر رہی ہے۔ شرمیلا (۱۶) نے ۲۰۱۸ میں، ۱۰ویں کلاس کے بورڈ کے امتحان ۷۸ فیصد نمبرات سے پاس کیے تھے۔ نرملا ۹ویں کلاس میں، گوری ۶ویں کلاس میں اور سمیکشا پہلی کلاس میں ہے۔ ان کا بیٹا ہرشل چار سال کا ہے اور اس آنگن واڑی میں جاتا ہے، جہاں لیلا بائی کام کرتی ہیں۔
’’مجھے اس بات کی فکر لگی رہتی ہے کہ والدین کے طور پر انھیں اچھی تعلیم دلانے، ان کی اچھی صحت کو یقینی بنانے میں مجھ سے کوئی کمی نہ رہ جائے،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’میں ہمیشہ سوچتی ہوں کہ ان کے ساتھ ویسا نہیں ہونا چاہیے جیسا میرے ساتھ ہوا۔ ہمارے حالات تبھی بدلیں گے جب وہ تعلیم حاصل کرکے نوکری حاصل کریں گے۔ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں سوچ کر مجھے نیند نہیں آتی۔ لیکن اگلے دن، ان کے لیے میں خود کو پھر سے مضبوط بناتی ہوں اور کام کرنا شروع کر دیتی ہوں۔‘‘
کرن موگھے اور سبھاش تھوراٹ کا خصوصی شکریہ کہ انھوں نے مجھے اس مضمون کے لیے پھلودے گاؤں جانے کا مشورہ دیا، اور امول واگھمارے کا شکریہ کہ انھوں نے گاؤں کی سیر کرانے میں میری مدد کی۔
(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)