’’میں نے اپنے تھیلے میں جو کیلے رکھے تھے، وہی کھاکر کام چلایا،‘‘ سریندر رام نے مجھے فون پر بتایا کہ انہوں نے کیسے ۲۲ مارچ کے ’جنتا کرفیو‘ کے وقت گزارہ کیا۔ اس دن، جب ممبئی کی زیادہ تر دکانیں اور کاروبار بند ہو گئے تھے اور جو لوگ گھروں میں رہ سکتے تھے، انہوں نے خود کو اندر بند کر لیا تھا، سریندر پریل میں ٹاٹا میموریل اسپتال کے پاس فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے تھے۔
سریندر ۳۷ سال کے ہیں اور انہیں منہ کا کینسر ہے۔
کرفیو کے دن تک، فٹ پاتھ کو اپنا ’گھر‘ بنائے ان کو ایک ہفتہ ہو گیا تھا – جنوب وسطی ممبئی میں واقع سرکاری امداد یافتہ اسپتال جو کئی کینسر مریضوں کو ریاعتی قیمتوں پر علاج مہیا کرواتا ہے، اس کے باہر فٹ پاتھ پر ان کے اور ان کے جیسے دوسرے مریضوں کے لیے ’اندر بند‘ ہونے کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ پورے ہندوستان سے کئی غریب خاندانوں کے لوگ اپنا علاج کروانے یہاں آتے ہیں۔
’’میرا چیک اپ ہو چکا ہے،‘‘ سریندر کہتے ہیں۔ ’’ڈاکٹر نے مجھے چار مہینے بعد آنے کے لیے کہا ہے۔‘‘ لیکن ۲۵ مارچ کو جب ملک بھر میں پوری طرح سے لاک ڈاؤن ہونے کی وجہ سے ریل خدمات ردّ کر دی گئیں، تب وہ بہار میں سمستی پور ضلع پوٹیلیا گاؤں میں اپنے گھر واپس نہیں جا پائے۔ ’’اب وہ کہتے ہیں کہ ۲۱ دن تک سب کچھ بند رہے گا۔ مجھے کوئی خبر نہیں ملتی۔ مجھے آس پاس کے لوگوں سے پوچھنا پڑتا ہے۔ تب تک کیا میں اسی فٹ پاتھ پر رہوں؟‘‘ سریندر نے سوال کیا۔
جب میں ۲۰ مارچ کو سریندر سے ملی تھی، تب وہ ایک نارنگی رنگ کی پلاسٹک کی چادر پر بیٹھے تھے، اپنے منہ کے ایک طرف سے کیلے کھا رہے تھے۔ ان کے نتھنوں کے بائیں طرف ایک پائپ لگا تھا۔ ’’کھانا میرے گلے سے نیچے نہیں اترتا، اس لیے پائپ کی ضرورت پڑتی ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ چادر پر ایک طرف کالا تھیلا رکھا تھا۔ جس میں انہوں نے اپنے کپڑے، میڈیکل رپورٹ، دوائیں اور کیلے بھرے ہوئے تھے۔
دن کے وقت بھی اس فٹ پاتھ پر چوہے دوڑ رہے تھے۔ مریضوں کے پاس کچھ چوہے مرے پڑے تھے۔ رات میں حالت مزید خراب ہو جاتی ہے، جب موٹے چوہے آس پاس دوڑتے رہتے ہیں۔










