’’مجھے راشن کی دکان سے میرا چاول کیوں نہیں مل رہا ہے؟ محمد نے جنم بھومی کے لیے تھُمّلا کے سرکاری اسکول میں جمع منڈل اہلکاروں سے سوال کیا، یہ ریاستی حکومت کے ذریعہ جنوری میں منعقد کیا گیا باہمی گفت و شنید کا ایک مجمع تھا۔
محمد کا نام تھُمّلا گاؤں کے ان کے راشن کارڈ سے غائب ہو گیا تھا، جب کہ ان کی تصویر ان کے گھر سے ۲۵۰ کلومیٹر دور، کرنول شہر کے ایک راشن کارڈ پر نظر آئی تھی۔ ’’کچھ نام تو وِزاگ [وشاکھاپٹنم، ۸۰۰ کلومیٹر سے بھی زیادہ دور] جیسے مقامات پر نظر آ رہے ہیں،‘‘ اہلکار نے جواب دیا۔
لہٰذا پٹھان محمد علی خان کو اکتوبر ۲۰۱۶ سے ہی ان کا راشن دینے سے منع کیا جا رہا ہے – جب سے انھوں نے اپنا آدھار نمبر اپنے راشن کارڈ سے جڑوایا ہے۔ علی، جن کی عمر ۵۲ سال ہے اور جو ایک سبزی فروش ہیں، نے اپنے آدھار سے راشن کارڈ تبھی جڑوا لیا تھا، جب آندھرا پردیش کی حکومت نے ایسا کرنا لازمی قرار دے دیا تھا۔ چند ہفتوں کے اندر ہی، اننت پور ضلع کے احمد نگر منڈل کے تھُمّلا گاؤں کی پبلک ڈسٹربیوشن سسٹم (پی ڈی ایس) کی راشن دکان پر ان کی پریشانیاں شروع ہو گئی تھیں۔
علی کی طرح کوئی بھی بی پی ایل (خط افلاس سے نیچے) راشن کارڈ ہولڈر جب پی ڈی ایس کی دکان پر جاتا ہے، تو دکاندار فیملی کے راشن کارڈ کا نمبر پوچھتا ہے اور اسے ایک چھوٹی سی مشین میں درج کرتا ہے۔ تب وہ مشین فیملی ممبران کی فہرست دکھاتی ہے اور وہاں موجود شخص کو اپنی انگلیوں کے نشان سے اس کی تصدیق کرنی پڑتی ہے۔ مشین جتنے لوگوں کے نمبر دکھاتی ہے ڈیلر اسی حساب سے راشن دیتا ہے۔ لیکن علی کا نام ان کی فیملی کے راشن کارڈ کے ناموں کی آن لائن لسٹ سے غائب ہو چکا تھا۔ ’’میں کئی دفعہ گیا، لیکن میرا نام وہاں نہیں تھا،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’جب وہ ہمارا نمبر ڈالتے ہیں، تو پانچ نام دکھائی دینے چاہئیں۔ لیکن صرف چار دکھائی دیتا ہے، میرا نام غائب ہے۔ انگلیوں کے نشان تبھی کام کرتے ہیں، جب وہاں پر نام موجود ہو۔ ورنہ وہ کام نہیں کرتے۔‘‘










