مردوں نے درختوں کی شاخیں کاٹ کر سڑک پر رکھ دیں۔ وہ تقریباً ۷۰-۸۰ لوگ تھے۔ انھوں نے ٹوٹی پھوٹی اور گڑھوں سے بھری اس سڑک کی مخالفت کرنے کا منصوبہ بنانے کے لیے ایک رات قبل میٹنگ کی تھی، جو اُن کے گاؤں، اترپردیش کے للت پور ضلع کے بھیلونی لودھ کو للت پور شہر (تقریباً ۴۰ کلومیٹر جنوب میں) اور جھانسی شہر (تقریباً ۹۰ کلومیٹر شمال میں) سے جوڑتی ہے۔ وہ پہلے بھی اس کی مخالفت کر چکے تھے – خط لکھ کر، سرکاری افسروں سے مل کر، لیکن یہ پہلی بار تھا جب وہ سڑک کو جام کر رہے تھے۔
پچھلی شام، ۲۵ سال کی راج بیتی ونشکار کو پتہ چلا کہ گاؤں کی دوسری عورتیں بھی احتجاج کرنے والی ہیں۔ صبح کو، وہ پورا وقت اسی پر کان لگائے رہیں کہ کہیں سے کوئی آواز آئے گی، لیکن کچھ بھی سنائی نہیں دیا۔ راج بیتی باسور براردی سے ہیں، جو ایک درج فہرست ذات ہے، یہ برادری تقریباً ۱۹۰۰ لوگوں کی آبادی والے اس گاؤں کے اکثریتی طبقہ، لودھیوں (او بی سی برادری) سے تھوڑی ہی دوری پر رہتی ہے۔ وہ ۱۲ سال پہلے سدھارتھ نگر ضلع کے جملا جوت گاؤں سے بھیلونی لودھ آ گئی تھیں، اور بانس کی ٹوکریاں بُن کر ہر مہینے فیملی کی آمدنی میں تقریباً ۱۰۰۰ روپے جوڑتی ہیں۔
اُس دن، ان کے آٹھ سال کے بیٹے اور پانچ سال کی بیٹی کے اسکول اور شوہر کے مزدوری کرنے کھیت پر جانے کے کافی دیر بعد، انھیں کچھ سنائی دیا۔ ’’دن میں تقریباً ۱۱-۱۲ بجے کے آس پاس میں نے زندہ باد کے نعرے سنے۔ دوپہر میں جب میں ہینڈ پمپ پر دوسری عورتوں سے ملی، تو مجھے تائی [میرا دیوی] سے پتہ چلا کہ کیا ہوا تھا۔ سب ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ صاحبہ نے دو دنوں کے اندر سڑک بنانے کا وعدہ کیا تھا،‘‘ راج بیتی یاد کرتے ہوئے بتاتی ہیں۔







