موہن بہادر کا تعلق نیپال سے ہے۔ وہ بہار شریف کے مدرسہ عزیزیہ میں گزشتہ ڈیڑھ سال سے سیکورٹی گارڈ کا کام کر رہے تھے۔ وہ بتاتے ہیں، ’’جب میں نے منع کیا، تو انہوں نے میرے اوپر ہی حملہ کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے مجھے گھونسہ مارا اور کہا، ’سالا نیپالی، بھاگو یہاں سے، نہیں تو مار دیں گے‘۔‘‘
وہ ۳۱ مارچ، ۲۰۲۳ کے اس واقعہ کے بارے میں بتا رہے ہیں، جب شہر میں رام نومی کے جلوس کے دوران فرقہ پرست فسادیوں نے مدرسہ (اسلامیات کا اسکول اور لائبریری) کو آگ لگا دی تھی۔
موہن بہادر کہتے ہیں، ’’لائبریری میں کچھ بھی نہیں بچا ہے۔ اس لیے، اب انہیں سیکورٹی گارڈ کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ میں بے روزگار ہو چکا ہوں۔‘‘
پاری نے مدرسہ عزیزیہ کا دورہ اپریل ۲۰۲۳ کے شروع میں کیا تھا۔ اس سے ایک ہفتہ پہلے ہی فرقہ پرست فسادیوں نے نہ صرف بہار شریف ٹاؤن (جو کہ بہار کے نالندہ ضلع کا ہیڈ کوارٹر ہے) کے اس مدرسہ پر، بلکہ وہاں کی دوسری عبادت گاہوں پر بھی حملہ کیا تھا۔ شروع میں حکام کے ذریعے پورے شہر میں ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی)، ۱۹۷۳ کے تحت دفعہ ۱۴۴ لگا دیا گیا تھا، اور انٹرنیٹ بھی بند کر دیا گیا تھا، لیکن ایک ہفتہ بعد دونوں کو ہٹا لیا گیا۔
وہاں پہنچنے پر ہماری ملاقات مدرسہ کے ایک سابق طالب علم، سید جمال حسن سے ہوئی جو بے بسی کے عالم میں وہاں گھوم رہے تھے۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ ’’لائبریری میں بہت سی کتابیں تھیں، لیکن میں سبھی کتابوں کو نہیں پڑھ سکتا تھا۔‘‘ انہوں نے ۱۹۷۰ میں اس مدرسہ کے اندر تیسری جماعت میں داخلہ لیا تھا اور عالم (گریجویشن) کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد یہاں سے فارغ ہوئے تھے۔
جمال حسن کہتے ہیں، ’’میں دیکھنے آیا ہوں کہ یہاں کچھ بچا بھی ہے یا نہیں۔‘‘