جیون بھائی بریا کو چار سالوں میں دو بار دل کا دورہ پڑا تھا۔ پہلی بار سال ۲۰۱۸ میں اس وقت پڑا تھا، جب وہ اپنے گھر پر ہی تھے۔ ان کی بیوی، گابھی بین انہیں اسپتال لے کر بھاگیں۔ دوسری بار، اپریل ۲۰۲۲ میں جب وہ بحر ہند میں مچھلی پکڑنے والی ایک بڑی کشتی چلا رہے تھے، تو اچانک ان کے سینہ میں تیز درد ہونے لگا۔ وہاں موجود ایک ساتھی نے اسٹیئرنگ کا پہیہ اپنے ہاتھ میں پکڑا اور دوسرے ساتھی نے گھبرا کر انہیں نیچے لیٹنے میں مدد کی۔ اس وقت یہ لوگ ساحل سمندر سے تقریباً پانچ گھنٹے دور تھے۔ آخری سانس لینے سے پہلے جیون بھائی دو گھنٹے سے زیادہ وقت تک اسی حالت میں مبتلا رہے۔
گابھی بین جس بات سے سب سے زیادہ ڈر رہی تھیں، آخرکار وہ سچ ثابت ہوا۔
پہلی بار دل کا دورہ پڑنے کے ایک سال بعد جب جیون بھائی نے پھر سے مچھلی پکڑنے کا فیصلہ کیا، تو ان کی بیوی اس بات سے بہت زیادہ خوش نہیں تھیں۔ انہیں معلوم تھا کہ یہ خطرناک ہے۔ جیون بھائی بھی کچھ ایسا ہی محسوس کر رہے تھے۔ گجرات کے امریلی ضلع میں واقع ایک چھوٹے سے ساحلی قصبہ، جعفر آباد میں اپنی جھونپڑی میں بیٹھی ہوئی گابھی بین کہتی ہیں، ’’میں نے انہیں منع کیا تھا۔‘‘
لیکن قصبہ کے زیادہ تر لوگوں کی طرح، ۶۰ سالہ جیون بھائی کو بھی مچھلی پکڑنے کے علاوہ کوئی اور کام نہیں آتا تھا۔ اس کام سے وہ ہر سال ۲ لاکھ روپے کماتے تھے۔ ۵۵ سالہ گابھی بین بتاتی ہیں، ’’وہ ۴۰ سال سے یہ کام کر رہے تھے۔ دل کا دورہ پڑنے کے ایک سال بعد جب انہوں نے اسے دوبارہ شروع کیا، تو میں نے بھی کسی طرح سے اپنے گھر کو چلانے کے لیے بطور مزدور [دوسرے ماہی گیروں کے لیے مچھلی سکھانے کا] کام کرنا شروع کر دیا۔ انہوں نے جب محسوس ہوا کہ وہ اب صحت یاب ہو گئے ہیں، تو انہوں نے کام پر دوبارہ جانے کا فیصلہ کیا۔‘‘
جیون بھائی مچھلی پکڑنے والی بڑی کشتی (ٹرالر) پر کام کرتے تھے، جو جعفر آباد کے بڑے ماہی گیروں کی تھی۔ کام کرنے والے لوگ ان کشتیوں کو سال میں آٹھ مہینے (مانسون کے موسم کو چھوڑ کر) بحر ہند میں لے جاتے ہیں، اور ہر بار ۱۵-۱۰ دنوں تک سمندر میں مچھلیاں پکڑتے ہیں۔ وہ اپنے ساتھ کچھ ہفتوں کے لیے کھانا اور پانی بھی لے کر جاتے ہیں۔
گابھی بین کہتی ہیں، ’’ایمرجنسی سروسز تک رسائی کے بغیر اتنے دنوں تک سمندر میں رہنا کبھی بھی محفوظ نہیں ہے۔ ان کے پاس صرف ایک فرسٹ ایڈ کٹ (ابتدائی طبی مدد کے طور پر چھوٹا موٹا سامان) ہوتی ہے۔ دل کے مریض کے لیے تو یہ بہت ہی خطرناک کام ہے۔‘‘














