اس سال مارچ کی ایک دوپہر کو، چلچلاتی دھوپ میں پانی کے تین گھڑے ڈھونے کے دوران، ۲۴ سالہ ممتا رِنجڈ کوئیں سے اپنے گھر کو جانے والے ویران راستے پر بیہوش ہو کر گر پڑیں۔ ’’میں کسی مردہ شخص کی طرح سڑک پر پڑی تھی، جہاں کسی نے بھی مجھے نہیں دیکھا،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’۲۰ منٹ کے بعد جب میں اٹھی [تو میں نے دیکھا کہ] میں نے سارا پانی گرا دیا ہے۔ کسی طرح، میں گھر واپس گئی اور اپنے شوہر کو جگایا جنہوں نے میرے لیے نمک اور شکر کا پانی بنایا۔‘‘
اس سال، گالترے کی دیگر خواتین کی طرح، ممتا کو بھی پچھلے دنوں کے مقابلے کافی پہلے، گرمیوں میں تین کلومیٹر دور واقع ایک کوئیں تک پیدل چلنا شروع کرنا پڑا ہے۔ مہاراشٹر کے پالگھر ضلع کے واڈا تعلقہ کے گالترے گاؤں میں، دو کوئیں فروری میں پوری طرح خشک ہو گئے۔ یہاں کے لوگ بتاتے ہیں کہ گزشتہ برسوں میں، گاؤں کے کنووں میں پانی – جس کا استعمال وہ پینے اور کھانا پکانے کے لیے کرتے ہیں – مئی کے شروع تک رہتا تھا۔ اس کے بعد، خواتین کو دور کے کنووں تک پیدل چل کر جانا پڑتا تھا، جس میں عام طور پر کچھ پانی بچا ہوتا تھا۔ لیکن ۲۰۱۹ میں، پانی کی کمی کئی مہینے پہلے ہی شروع ہو گئی۔
’’ہم نے ہر سال گرمیوں میں پانی کے بحران کا سامنا کیا ہے، لیکن اس سال ہمارے سبھی آبی وسائل خشک ہو رہے ہیں،‘‘ ۴۲ سالہ منالی پڈولے کہتی ہیں۔ ممتا کی طرح وہ بھی، گاؤں کے پاس ایک بڑے مندر کے احاطہ میں ۱۵۵ روپے یومیہ اجرت پر صفائی کا کام کرتی ہیں، ان کے شوہر اس مندر میں ایک ڈرائیور کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ’’ہمارے یہاں پانی کے ٹینکر ایک بار بھی نہیں بھیجے گئے اور ہمارے پاس انھیں خریدنے کے لیے پیسے نہیں ہیں،‘‘ وہ آگے کہتی ہیں۔
گاؤں سے تقریباً آدھا کلومیٹر کی دوری پر بہنے والی ویترنا ندی، گالترے کے ۲۴۷۴ باشندوں (مردم شماری ۲۰۱۱) کے لیے پانی کے اہم ذرائع میں سے ایک ہے۔ یہاں کے زیادہ تر لوگ کولی ملہار اور وارلی آدیواسی ہیں۔ اس سال مئی میں، ندی میں صرف چٹانوں کا ایک ڈھیر تھا اور پانی بالکل بھی نہیں تھا۔ گالترے کے باشندوں کا کہنا ہے کہ پچھلی گرمیوں میں، ویترنا میں زیادہ پانی نہیں ہوا کرتا تھا۔ ’’ندی میں [اب] جو تھوڑا پانی بچا ہے، اس کا استعمال مویشیوں کو دھونے میں کیا جاتا ہے اور پھر یہی گندا پانی گاؤں کے نلوں میں سپلائی ہوتا ہے،‘‘ منالی آگے کہتی ہیں۔












